کراچی کے علاقے ڈفینس فیز 6 کے فلیٹ سے ملنے والی ماڈل و اداکارہ حمیر ا اصغر علی کی لاش کو 3 دن بعد اہلِ خانہ وصول کرکے لاہور لے گئے جہاں ان کی تدفین کی جائے گی۔

گزشتہ روز لاہور سے احمیرا اصغر کی لاش وصول کرنے کے لیے آنے والے ان کے بھائی نوید اصغر نے لاہور واپس جانے سے قبل میڈیا سے گفتگو کی اور اپنے شک و شبہات کا اظہار کیا۔

انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیس میں ممکنہ شبہ ظاہر کیا اور کہا کہ ہم مزید تحقیقات کا فیصلہ کرنے سے قبل فرانزک رپورٹ کا انتظار کریں گے۔

انہوں نے شبہ ظاہر کرتے ہوئے میڈیا سے کہا کہ ممکن ہے کہ حمیرا کے گھر کی 2 چابیاں ہوں، ایسا اکثر گھروں میں ہوتا ہمارے گھر میں بھی ایسا ہی ہے، ہو سکتا ہے دوسری چابی کا استعمال کرکے کوئی گھر کے اندر آیا ہو اور اپنا کام کرکے نکل گیا ہو۔

انہوں نے حمیرا اصغر کی اچانک موت اور طویل عرصے سے کسی کے رابطے میں نہ ہونے پر سوال اُٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے فلیٹ میں آج کے زمانے میں سی سی ٹی وی کیمرے موجود نہیں، کسی کو خبر نہیں کہ کون کب آ رہا ہے کون کب جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی نے یہ نہیں سوچا کہ جب پولیس گھر کے اندر آئی تو ایک لاک لگا ہوا تھا یا گھر کے اندر کنڈی بھی لگی ہوئی تھی؟ کیونکہ کنڈی اندر سے ہی لگائی جاسکتی تھی لیکن گھر کا دروازہ باہر سے بھی بند ہوسکتا تھا۔

انہوں نے میڈیا کے رویے پر بھی سوال اُٹھایا اور کہا کہ اگر تحقیقات کے دوران کوئی نکتہ پولیس سے چھوٹ گیا ہے تو آپ کا کام ہے کہ سوال کرکے اس نقطہ نظر کو اُٹھائیں لیکن آپ سب کی توجہ صرف اصغر علی فیملی تھی۔

دریں اثناء حمیرا اصغر کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ منظر عام پر آگئی، جس کے مطابق اداکارہ کی لاش 8 سے 10 ماہ پرانی ہے، اداکارہ کے جسم کی کوئی ہڈی ٹوٹی ہوئی نہیں پائی گئی ہے۔

قبل ازیں ایس پی ساؤتھ مہزور علی نے کہا تھا کہ حمیرا اصغر کے ورثاء نے فوری طور پر کسی شک و شبہے کا اظہار نہیں کیا۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: حمیرا اصغر کی انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • میسی ارجنٹائن کے صدر بنیں گے؟ نئی پیشگوئی نے سب کو حیران کردیا
  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا