اداکارہ حمیرا سے آخری بار رابطہ کب ہوا تھا؟ فوٹو شوٹ کرنے والے کے حیران کن انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
فلیٹ میں مردہ حالت میں پائی گئیں اداکارہ حمیرا اصغر کے ساتھ آخری فوٹو شوٹ کرنے والے اسٹائلسٹ نے ہولناک انکشافات کیے ہیں۔
نجی ٹی وی چینل سے سے گفتگو میں دانش مقصود نے بتایا کہ میں نے دس ماہ قبل حمیرا اصغر کے ساتھ فوٹو شوٹ کیا تھا۔
دانش مقصود نے بتایا کہ حمیرا اصغر سے آخری گفتگو اکتوبر میں واٹس ایپ پر ہوئی تھی۔ انھوں نے شوٹ کی تعریف کی اور وہ کافی خوش نظر آرہی تھیں۔
کی تھی اور اس کی وجہ ایک فوٹو شوٹ تھا۔ ان کا کہناتھا کہ اس کے بعد جب ان سے واٹس ایپ پر بات ہوئی تو وہ کافی خوش تھیں اور شوٹ کی تعریف بھی کی۔
دانش مقصود نے انکشاف نے کیا کہ ہماری ٹیم نے حمیرا کو فوٹو شوٹ کو سوشل کولیبریٹ کرنے کی ریکوئسٹ بھیجی لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔
دانش مقصود نے مزید بتایا کہ پھر ہم نے حمیرا کو دوبارہ کالز کیں جواب نہ آنے پر ان کے واٹس ایپ پر میسج کیے لیکن کوئی جواب نہ آیا۔
اسٹائلسٹ کا مزید کہنا تھا کہ جس پر ہمیں تشویش ہوئی تو سوشل میڈیا پبلیکیشن سے بھی رابطہ کرکے اداکارہ اور ماڈل کے لاپتا ہونے کی اطلاع دی۔
انھوں نے مزید بتایا کہ لیکن شاید ان سب کو لگا کہ ایسے لاپتا ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے اور کسی نے توجہ نہ دی۔
دانش مقصود نے مزید بتایا کہ میں نے دو مختلف اپلیکیشن پر بھی پوسٹس لگوائیں لیکن پھر بھی اس بات پر شوبز انڈسٹری کی طرف سے توجہ نہیں دی گئی۔
حمیرا اصغر شوبز کی دنیا میں نام بنانے کے لیے لاہور سے کراچی منتقل ہوئی تھیں اور ڈیفنس کے علاقے میں 2018 سے ایک فلیٹ میں کرائے پر رہ رہی تھیں۔
انھوں نے 2024 سے فلیٹ کا کرایہ نہیں دیا تھا جس پر مالک نے کیس کررکھا تھا اور پولیس عدالتی حکم پر فلیٹ خالی کرانے پہنچی تھی۔
بار بار دستک کے باوجود دروازہ نہ کھلنے پر پولیس دروازہ توڑ کر داخل ہوئی تو اداکارہ کی لاش ملی۔
اداکارہ کے والد نے لاش لینے سے انکار کردیا جب کہ بھائی نے بھی پولیس کو خاطر خواہ جواب نہیں دیا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: فوٹو شوٹ بتایا کہ جواب نہ
پڑھیں:
جےیوآئی کے سینئررہنما حافظ حمداللہ لاپتہ ہوگئے
کوئٹہ(نیوز ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے مرکزی رہنما حافظ حمداللہ سے کئی گھنٹوں تک رابطہ نہ ہونے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں اور پارٹی کارکنوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
تفصیلات کے مطابق حافظ حمداللہ کے صاحبزادے حافظ خلیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد کا موبائل فون بند آ رہا ہے اور ان کے ساتھ موجود ساتھیوں سے بھی رابطہ نہیں ہو پا رہا۔
انہوں نے کہا کہ حافظ حمداللہ آج بلوچستان کے علاقے سنجاوی میں ایک پروگرام میں شرکت کیلئے گئے تھے، تاہم چند گھنٹوں سے ان سے کوئی رابطہ قائم نہیں ہو سکا جس کے باعث اہل خانہ اور پارٹی رہنماؤں میں تشویش پیدا ہوئی۔
دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر زیارت سے رابطہ کیا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر زیارت نے مولانا عبدالغفور حیدری کو آگاہ کیا کہ حافظ حمداللہ محفوظ مقام پر موجود ہیں اور ان کی خیریت سے متعلق کوئی تشویش کی بات نہیں۔
واقعے کی اطلاع سامنے آنے کے بعد جے یو آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں کی جانب سے حافظ حمداللہ کی جلد از جلد عوامی سطح پر موجودگی اور رابطے کی بحالی کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔
پارٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے مختلف قیاس آرائیاں جنم لے رہی تھیں، تاہم انتظامیہ کے بیان کے بعد صورتحال کسی حد تک واضح ہو گئی ہے۔
مزید تفصیلات اور سرکاری وضاحت سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں۔بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا