تمام قیاس آرائیاں ختم، ایران کے سپریم لیڈر جنگ کے بعد منظر عام پر آ گئے
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
TEHRAN:
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای جنگ کے بعد پہلی مرتبہ منظر عام پر آئے ہیں، جس کے بعد ملکی سیاسی اور عسکری حلقوں میں ایک نیا جوش و جذبہ نظر آ رہا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے تہران میں شب عاشور کی روحانی مجلس میں شرکت کی، جہاں عزاداروں نے ان کا شاندار استقبال کیا۔
مجالس میں شریک افراد نے آیت اللہ خامنہ ای کے حق میں فلک شگاف نعروں کے ساتھ ان کی حمایت کا اظہار کیا، جو ایرانی عوام کی جانب سے ان کے قائدانہ کردار پر پختہ یقین کو ظاہر کرتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے ابتدائی مراحل میں اسرائیل کے فضائی حملے میں ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت اور جوہری پروگرام سے وابستہ اہم سائنسدانوں کی بڑی تعداد شہید ہو گئی تھی۔
اس کے بعد آیت اللہ خامنہ ای اپنے حفاظت کے پیش نظر ایک نامعلوم مقام پر منتقل ہوگئے تھے، جہاں انہوں نے موبائل فون اور دیگر برقی آلات کا استعمال ترک کر دیا تھا تاکہ ان کی سرگرمیوں کی نگرانی نہ کی جا سکے۔
آیت اللہ خامنہ ای کی غیاب کے دوران کئی افواہیں گردش کرتی رہیں، تاہم ان کی حالیہ عوامی شرکت نے تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آیت اللہ خامنہ ای کے بعد
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔