تمام قیاس آرائیاں ختم، ایران کے سپریم لیڈر جنگ کے بعد منظر عام پر آ گئے
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
TEHRAN:
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای جنگ کے بعد پہلی مرتبہ منظر عام پر آئے ہیں، جس کے بعد ملکی سیاسی اور عسکری حلقوں میں ایک نیا جوش و جذبہ نظر آ رہا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے تہران میں شب عاشور کی روحانی مجلس میں شرکت کی، جہاں عزاداروں نے ان کا شاندار استقبال کیا۔
مجالس میں شریک افراد نے آیت اللہ خامنہ ای کے حق میں فلک شگاف نعروں کے ساتھ ان کی حمایت کا اظہار کیا، جو ایرانی عوام کی جانب سے ان کے قائدانہ کردار پر پختہ یقین کو ظاہر کرتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے ابتدائی مراحل میں اسرائیل کے فضائی حملے میں ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت اور جوہری پروگرام سے وابستہ اہم سائنسدانوں کی بڑی تعداد شہید ہو گئی تھی۔
اس کے بعد آیت اللہ خامنہ ای اپنے حفاظت کے پیش نظر ایک نامعلوم مقام پر منتقل ہوگئے تھے، جہاں انہوں نے موبائل فون اور دیگر برقی آلات کا استعمال ترک کر دیا تھا تاکہ ان کی سرگرمیوں کی نگرانی نہ کی جا سکے۔
آیت اللہ خامنہ ای کی غیاب کے دوران کئی افواہیں گردش کرتی رہیں، تاہم ان کی حالیہ عوامی شرکت نے تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آیت اللہ خامنہ ای کے بعد
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔