اینکر عائشہ جہانزیب کے متعلق نامناسب گفتگو کے کیس میں اہم پیشرفت
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
اینکر عائشہ جہانزیب کے متعلق نامناسب گفتگو کرنے کیخلاف کیس کی سماعت میں عدالت نے گرفتار ملزم حسیب سجاد کی ضمانت خارج کردی۔
ضلع کچہری لاہور میں معروف اینکر عائشہ جہانزیب کے متعلق نامناسب گفتگو کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ جوڈیشل مجسٹریٹ محمد نعیم وٹو نے مقدمے پر سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے زین علی قریشی ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔
عدالت نے گرفتار ملزم حسیب سجاد کی ضمانت خارج کردی۔ جوڈیشل مجسٹریٹ محمد نعیم وٹو نے دو صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملزم تفتیش میں قصور وار پایا گیا ہے، ملزم کو ضمانت نہیں دی جاسکتی۔
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزم کا مدعیہ سے متعلق نامناسب کمنٹس سے اسکی عزت کو نقصان پہنچا عدالت ملزم کی ضمانت مسترد کرتی ہے جبکہ عدالت نے تفتیشی افسر کو حکم بھی دیا کہ ملزم کے خلاف چالان جمع کروائے۔
واضح رہے کہ مدعیہ کے مطابق ملزم نے یوٹیوب کے پروگرام میں بطور میزبان نامناسب کمنٹس کا استعمال کیا اور ایف آئی اے لاہور نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کررکھا ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔