سندھ ہائیکورٹ نے فلمساز جامی کی سزا کالعدم قرار دے دی
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
سندھ ہائیکورٹ نے فلم پروڈیوسر رائٹر اور ڈائریکٹر جمشید محمود عرف جامی کی سزا کیخلاف اپیل پر ضمانت منظور کرتے ہوئے سزا کالعدم قرار دیدی۔
رپورٹ کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں فلم پروڈیوسر رائٹر اور ڈائریکٹر جمشید محمود عرف جامی کی سزا کیخلاف اپیل کی سماعت ہوئی۔ اپیل کنندہ کے وکیل حافظ محمد یحییٰ ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی نے ڈائریکٹ کمپلین پر جرم ثابت ہونے پر جمشید محمود عرف جامی کو 2 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
وکیل نے موقف اپنایا کہ جمشید محمود عرف جامی کو جس جرم میں سزائے سنائی گئی ہے وہ قابل ضمانت ہیں۔ ماتحت عدالت نے جمشید محمود عرف جامی کو سنائی گئی سزا میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیئے۔ جمشید محمود عرف جامی پر لگائے گئے الزامات غلط اور بے بنیاد ہیں۔ ماتحت عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کالعدم قرار دی جائے۔
عدالت نے جمشید محمود عرف جامی کی ضمانت منظور کرتے ہوئے 50 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے جمشید محمود عرف جامی کو ماتحت عدالت کی جانب سے دی گئی بھی سزا معطل کردی۔
یاد رہے کہ جمشید محمود عرف جامی کیخلاف فلم، میوزک ڈائریکٹر سہیل جاوید نے ڈائریکٹ کمپلین دائر کی تھی۔ درخواستگزار کے وکیل کے مطابق جمشید محمود عرف جامی کو آج جیل سے رہا کردیا جائے گا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: جمشید محمود عرف جامی کو جمشید محمود عرف جامی کی کی سزا
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان