سندھ حکومت کا بڑا قدم ، خواجہ سراؤں کے لیے کھیلوں کے انعقاد کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, April 2025 GMT
سندھ حکومت کا خواجہ سراوں کے حقوق کے لئے بڑا قدم، سندھ حکومت نے 18 اپریل کو سکھر میں خواجہ سراؤں کے لیے کھیلوں کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے۔ صوبائی محکمۂ کھیل کے مطابق خواجہ سراؤں کے لیے کرکٹ، رسہ کشی کے مقابلے اور بدین میں اسٹریٹ چلڈرن گیمز کرائے جائیں گے۔ اس حوالے سے سیکریٹری کھیل کا کہنا ہے کہ کرکٹ میچ اور رسہ کشی کے مقابلوں میں سکھر اور خیرپور کے 35 خواجہ سرا حصہ لیں گے۔ محکمۂ کھیل سندھ کی جانب سے کھلاڑیوں کو ٹریک سوٹ اور یومیہ الاؤنس فراہم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ میونسپل اسٹیڈیم سکھر میں خواجہ سرا صبا شاہ اور سویرا بلوچ کی ٹیمیں شام 7 بجے مدِ مقابل ہوں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔