UrduPoint:
2026-07-24@14:36:07 GMT

مساوی اجرت کی جدوجہد، کھیلوں میں خواتین اب بھی پیچھے

اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT

مساوی اجرت کی جدوجہد، کھیلوں میں خواتین اب بھی پیچھے

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 18 ستمبر 2025ء) ویمن اسپورٹس یا خواتین کے کھیلوں کے شعبے میں ترقی ہو رہی ہے۔ اس وقت عالمی منظر نامے پر ایک نظر ڈالی جائے تو ایسا ہی لگتا ہے کہ کھیلوں کا شعبہ مساوی تنخواہ کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یورپی پارلیمان کی ایک رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ 83 فیصد کھیلوں میں اب مساوی انعامی رقم دی جاتی ہے جبکہ فٹ بال، ٹینس اور کرکٹ جیسے بڑے کھیلوں میں خواتین کے میچوں کے لیے اسٹیڈیم بھرے ہونا معمول بن گیا ہے۔

گلوبل آبزرویٹری برائے صنفی مساوات اور اسپورٹس کی عبوری سی ای او لومبے موامبا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''جب مساوی تنخواہ اور شرائط کی بات آتی ہے تو کھیل کا شعبہ دیگر شعبوں کے مقابلے میں بدستور پیچھے دکھائی دیتا ہے۔

(جاری ہے)

‘‘

اگرچہ کھیل سے متعلق بہت کم اعداد و شمار موجود ہیں، لیکن یہ اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ صرف 15 سے 25 فیصد ہی نامور خواتین فٹبالرز مرد فٹ بالرز کے مساوی پیسے کماتی ہیں۔

اگرچہ ٹینس جیسا کھیل مستثنٰی ہے، جو تمام ٹورنامنٹس میں مردوں اور عورتوں کے لیے یکساں انعامی رقم کی طرف بڑھ رہا ہے، لیکن زیادہ تر کھیلوں میں ٹاپ کھلاڑیوں کی سطح پر دیکھا جائے تو یہ فرق بہت نمایاں ہے۔

اس فرق کی وجوہات میں تاریخی پابندیاں، سرمایہ کاری کی کمی، پیشہ ورانہ مواقع اور زچگی کی سہولیات کا فقدان شامل ہے۔ سب سے بڑی رکاوٹ یہ تاثر ہے کہ کھیل صرف مردوں کا شعبہ ہے۔

سابق فٹبالر الیکس کلون کے مطابق صرف اعلیٰ تنخواہوں کا موازنہ کرنا مساوی تنخواہ کی بحث کو نقصان پہنچاتا ہے کیونکہ یہ تصویر کا صرف ایک محدود اور مسخ شدہ رُخ دکھاتا ہے۔

الیکس کلون اب عالمی کھلاڑیوں کی یونین FIFPRO کے لیے کام کرتی ہیں۔ان کا مزید کہنا ہے کہ کھیل میں سب سے زیادہ کمانے والوں کی تنخواہوں کا اس طرح موازنہ کرنا مساوی تنخواہ کی دلیل کو نقصان پہنچاتا ہے۔

تنخواہوں کی حد

ڈاکٹر کلون کا کہنا ہے کہ خواتین کھلاڑیوں کے لیے کم از کم تنخواہ مقرر ہونی چاہیے، جیسا کہ امریکہ، برطانیہ اور اسپین کی اعلیٰ لیگز میں ہوتا ہے۔ اس سے کھلاڑیوں کو مالی تحفظ ملتا ہے اور ساتھ ہی کلبز کو خواتین کی ٹیموں میں سرمایہ کاری کی ترغیب ملے گی۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ کھیل میں آمدنی بڑھنے سے تنخواہیں بھی خود بخود بڑھیں گی۔

بنیادی سطح پر تبدیلی

گلوبل آبزرویٹری فار جینڈر ایکویلیٹی اینڈ اسپورٹس کی عبوری سی ای او لومبے موامبا کہتی ہیں کہ صرف مساوی تنخواہوں کا حصول کافی نہیں۔ خواتین کھیلوں میں اکثر بغیر معاوضے یا کم معاوضے کے کام کرتی ہیں (کوچ، ریفری وغیرہ)، ''اس وجہ سے ان کی ترقی کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔ کھیل میں برابری کے لیے صرف تنخواہ نہیں بلکہ پورے نظام میں تبدیلی ضروری ہے۔

‘‘ صرف تنخواہ نہیں، حالات بھی اہم ہیں

ڈاکٹر کلون کہتی ہیں کہ کچھ فیڈریشنز صرف دکھاوے کے لیے مساوی تنخواہ دیتی ہیں اور خواتین اور مرد کھلاڑیوں کے سفر، سہولیات، کھانے پینے کے معیار وغیرہ میں واضح فرق ہوتا ہے۔ ان کے بقول یہ سب عوامل کارکردگی پر اثر انداز ہوتے ہیں، اس لیے صرف میچ فیس برابر ہونا کافی نہیں۔‘‘

خواتین ٹیموں کو ترجیح نہیں دی جاتی

جسمینا کووِچ، جو چند خواتین فٹبال ایجنٹس میں سے ایک ہیں، بتاتی ہیں کہ کچھ کلبز خواتین ٹیموں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں ، لیکن سب نہیں، ''کئی کلب کہتے ہیں کہ مردوں کی ٹیم کو ہمیشہ ترجیح دی جائے گی۔

خواتین تب کھیل سکتی ہیں جب میدان خالی ہو۔‘‘ سیاسی خطرات اور قانون سازی

خواتین کے کھیلوں کو ایک بڑا خطرہ کئی ممالک، خاص طور پر امریکہ میں، دائیں بازو کی سیاست کی طرف جھکاؤ سے ہے۔ 1972ء میں متعارف ہونے والے Title IX قانون نے سرکاری فنڈ سے چلنے والے تعلیمی اداروں میں صنفی امتیاز کو ممنوع قرار دیا، جس سے خواتین کی کھیلوں میں شرکت بڑھی۔

یہ قانون امریکہ کی خواتین فٹبال ورلڈ کپ اور اولمپکس میں کامیابی کا ایک اہم سبب سمجھا جاتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا دوسرا دور

ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے چند دن بعد ایک قانون میں تبدیلی کی، جس کے تحت ٹرانس جینڈر کھلاڑیوں پر خواتین کے مقابلوں میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ ناقدین کے مطابق یہ اقدام خواتین کے کھیلوں کو کمزور کرنے اور ''تنوع، مساوات اور شمولیت‘‘(DEI) کی پالیسیوں کو ختم کرنے کی ایک کڑی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی ویمن رائٹس ڈویژن کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر ہیتھر بار کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کی DEI کے خلاف مہم نے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں پر منفی اثر ڈالا ہے، یہاں تک کہ ''جینڈر‘‘ جیسے الفاظ کو بھی امریکی حکومت ناپسند کرنے لگی ہے۔

ادارت: عدنان اسحاق

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے مساوی تنخواہ کھیلوں میں خواتین کے کہ کھیل ہیں کہ کے لیے

پڑھیں:

موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم

دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیں پروگرام: دین و دنیا
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
مہمان: عالمہ رافعہ منیر
میزبان : مولانا سید تقی زیدی
پیش کار و مدیر: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
خلاصہ گفتگو: 
کربلا میں عشق کے دو بلند ترین مینار ہیں: ایک سرورِ شہداء امام حسین علیہ السلام کی قربانی کا جلوہ، اور دوسرا اس آفتابِ عصمت کی تابناکی، جس کا نام حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہے۔ یہیں پر خواتین کا کردار تاریخ کی سب سے درخشاں داستان بن کر ابھرتا ہے۔ بی بی زینبؑ نے نہ صرف اپنی آنکھوں سے بھائی کے لہو کا منظر دیکھا، بلکہ اپنی گفتار اور استقامت سے عاشورہ کی نہضت کو ابدی زندگی عطا کی، یزید کی باطل حکومت کو جوابِ شافی دیا اور اسے اخلاقی شکست کا مزہ چکھایا۔ کربلائی خواتین نے اپنے شوہروں، بھائیوں اور بچوں کو حوصلہ دیا کہ وہ اپنے امام کی راہ میں سبقت کریں؛ چنانچہ چھوٹے سے چھوٹے طفلِ شیرخوار نے بھی لبِ تشنہ سے قربانی کا یہ پیغام جگا دیا کہ عشقِ حسینی میں کسی کو کسی کی پروا نہیں، بس جلوۂ حق ہے اور اس کی خاطر ہر چیز فدا۔
 
یہ انفرادی جہاد ہی نہیں، بلکہ خواتین کا اجتماعی کردار بھی معاشرے کی تشکیل میں ناقابلِ فراموش حیثیت رکھتا ہے۔ شہیدِ امت، رہبر معظم انقلاب نے بارہا اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ معاشرہ خواتین کے کردار کے بغیر اپنی پختگی اور تکمیل نہیں پا سکتا۔ لہٰذا خواتین کو اپنے ہر شعبۂ زندگی، خاص طور پر علم و تعلیم کے میدان میں کمال حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ بعض ذمہ داریاں ایسی ہیں جنہیں مرد انجام نہیں دے سکتے، مگر ایک باہوش، باصلاحیت اور تربیت یافتہ عورت انہیں بہترین انداز میں سرانجام دے سکتی ہے۔ یہی وہ راہ ہے جو کربلا کی درسگاہ سے نکلتی ہے اور ہر دور کی خواتین کو اپنی داخلی قوت کو پہچاننے اور اپنے معاشرتی فرائض کو پورا کرنے کا پیغام دیتی ہے۔
 

متعلقہ مضامین

  • ’اکیلا میسی کچھ نہیں کر سکتا‘، فٹبال لیجنڈ کا بیان
  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم
  • سرکاری ملازمتوں کا شاندار موقع! ماہانہ تنخواہ 1 لاکھ سے 7 لاکھ 50 ہزار روپے تک
  • پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ، ہمسایہ ملک وسائل فراہم کر رہا ہے: وزیراعظم
  • برطانوی ہائی کمیشن میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کے آغاز کی تقریب
  • جوز بٹلر نے ویسٹ انڈیز کے لیجنڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف