بالی ووڈ اسٹارز ایشوریا رائے بچن اور ابھیشیک بچن کی بیٹی ارادھیا بچن حال ہی میں اسکول میں اپنی شاندار کارکردگی کی وجہ سے توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ وہ اسکول کے ڈراموں میں اپنی اداکاری کے جوہر بھی دکھا رہی ہے، اور اپنی خود اعتمادی اور صلاحیتوں سے سب کا دل جیت رہی ہیں۔

حال ہی میں شاہ رخ خان کے بیٹے ابرام خان کے ساتھ ایک ڈرامے میں ان کی اداکاری نے یہ قیاس آرائیاں پیدا کر دی ہیں کہ وہ بھی اپنے والدین کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے بالی ووڈ میں قدم رکھ سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کیا ابھیشیک بچن نے ایشوریا رائے کو طلاق دے دی؟

ارادھیا بچن کے حوالے سے نجومی گیتانجلی سکسینہ نے پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرادھیا ایک نمایاں شخصیت بن کر ابھر سکتی ہیں اور بالی ووڈ کی اگلی بڑی اسٹار بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ آرادھیا کو کچھ مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، لیکن وہ تنازعات کے باوجود کامیابی حاصل کر سکتی ہیں۔ گیتانجلی نے یہ بھی کہا کہ آرادھیا ایک بہت ہی جذباتی فطرت کی مالک ہیں اور ممکن ہے کہ وہ اداکارہ کے طور پر ابھریں یا پردے کے پیچھے کسی پروڈکشن ٹیم کا حصہ بنیں۔

یہ بھی پڑھیں: “ایشوریہ رائے سے شادی کر کے نیک بچے نہیں پیدا ہوں گے” سابق کرکٹر عبدالرزاق نے ایسا کیوں کہا؟

آرادھیا بچن کے بالی ووڈ میں ڈیبیو کرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے نجومی نے کہا کہ ’ارادھیا ایک بہت ہی خودمختار اور غالب شخصیت کی حامل لڑکی ہے‘، انہوں نے مزید کہا کہ ’اس کے اردگرد تنازعات ہو سکتے ہیں۔ ان چیلنجز کے باوجود آرادھیا اپنے خاندان کی مضبوط خواتین کی وراثت سے متاثر ہو کر اپنی الگ پہچان بنانے میں کامیاب ہو سکتی ہیں‘۔

گیتانجلی نے یہ بھی کہا کہ ’آرادھیا کی کامیابی کا سفر آسان نہیں ہوگا اور اس میں رکاوٹیں آئیں گی، خاص طور پر اس کی نیومیرولوجی (اعداد کے حساب) کی وجہ سے۔ لیکن وہ ان مشکلات سے ابھر کر وہ کامیاب ہو گی۔ یہ جدوجہد اُس کے نمبرز، یعنی 7 اور 4 کے امتزاج سے پیدا ہو گی‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک بات واضح ہے آرادھیا بچن جلد یا بدیر اپنی پہچان ضرور بنائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ابھیشیک بچن ادارھیا بچن ایشوریہ رائے بالی ووڈ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ابھیشیک بچن ادارھیا بچن ایشوریہ رائے بالی ووڈ بالی ووڈ سکتی ہیں یہ بھی کہا کہ

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا