پی ایس ایل میں زیادہ ففٹیز فخر نے رضوان کو پیچھے چھوڑ دیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, April 2025 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں لاہور قلندرز کی نمائندگی کرنیوالے جارح مزاج اوپنر فخر زمان نے لیگ میں سب سے زیادہ ففٹیز کے ریکارڈ میں رضوان کو پیچھے چھوڑ دیا۔
گزشتہ روز لاہور قلندرز کے اوپنر فخر زمان نے نیشنل بینک اسٹیڈیم میں کراچی کنگز کے خلاف پی ایس ایل کیریئر کی 21ویں ففٹی اسکور کی، جس کے بعد انہوں نے سب سے زیادہ ففٹیز کے ریکارڈ میں محمد رضوان کو پیچھے چھوڑ دیا۔
انہوں نے 46 گیندوں پر 76 رنز کی اننگز کھیلی جس میں 6 چوکے اور 5 چھکے شامل تھے۔
ملتان سلطانز کے کپتان محمد رضوان بھی اب تک 20 پی ایس ایل ففٹیز بنا چکے ہیں تاہم فخر 21 نصف سینچریوں کیساتھ دوسرے سب سے زیادہ ففٹیز بنانے والے بلےباز بن چکے ہیں۔
لیگ میں سب سے زیادہ نصف سنچریوں کا ریکارڈ پشاور زلمی کے کپتان بابراعظم کے پاس ہے، وہ اب تک 33 مرتبہ 50 کے ہندسے کو عبور کرچکے ہیں۔
اس فہرست میں آل راؤنڈر شعیب ملک نے 15 اور کیوی بیٹر کولن منرو نے 13 ففٹیز بنائی ہیں۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: زیادہ ففٹیز سب سے زیادہ پی ایس ایل
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔