نیشنل کانفرنس کے صدر نے کہا کہ انہوں نے کشمیر میں تمام بڑی سیاسی قوتوں کو اکٹھا کرنے کی پہل کی ہے اور ریاست کی خصوصی حیثیت کے دفاع کیلئے سیاسی جماعتوں کا اتحاد تشکیل دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کے سابق وزیراعلٰی فاروق عبداللہ نے بدھ کو سراغ رساں ادارے "را" کے سابق سربراہ اے ایس دُلت کے ان دعووں پر شدید ردعمل ظاہر کیا کہ انہوں نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کی "درپردہ طور پر حمایت" کی تھی۔ فاروق عبداللہ نے دلت پر ان کی منظر عام پر آنے والی کتاب کی فروخت بڑھانے کے لئے "اوچھے ہتھکنڈے" استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ فاروق عبداللہ نے دُلت کے ان دعووں کو مسترد کیا کہ ان کی جماعت نیشنل کانفرنس نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کی تجویز کو پاس کرنے میں مدد کی ہوتی اگر اسے اعتماد میں لیا جاتا۔ واضح رہے کہ ایس اے دُلت کی کتاب "دی چیف منسٹر اینڈ دی اسپائی" 18 اپریل کو ریلیز ہونے والی ہے.

فاروق عبداللہ نے کہا کہ وہ اور ان کے بیٹے عمر عبداللہ دونوں کو 5 اگست 2019 کو دفعہ 370 کی منسوخی کے وقت کئی مہینوں تک حراست میں رکھا گیا تھا۔ انہوں نے کہا "ہمیں اس لئے حراست میں لیا گیا تھا کہ خصوصی درجہ کی منسوخی کے خلاف ہمارا موقف واضح تھا"۔

فاروق عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے جموں و کشمیر میں تمام بڑی سیاسی قوتوں کو اکٹھا کرنے کی پہل کی ہے اور ریاست کی خصوصی حیثیت کے دفاع کے لئے سیاسی جماعتوں کا اتحاد پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (پی اے جی ڈی) تشکیل دیا ہے۔ فاروق عبداللہ نے ایس اے دلت کے اس دعوے کو مضحکہ خیز قرار دیا کہ جموں و کشمیر اسمبلی میں دفعہ 370 کی منسوخی کے لئے ایک قرارداد منظور کی گئی ہوتی۔ فاروق عبداللہ کے مطابق کتاب میں یہ دعویٰ کہ نیشنل کانفرنس خصوصی حیثیت کی منسوخی پر قرارداد منظور کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، محض اس مصنف کے تخیل کی عکاسی ہے جس نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ میرا دوست ہے۔ نیشنل کانفرنس کے صدر نے کہا کہ یہ کتاب غلط بیانیوں اور غیر واضح کہانیوں سے بھری پڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دلت کا یہ دعویٰ کہ نیشنل کانفرنس بی جے پی کے قریب جانا چاہتی ہے سراسر جھوٹ ہے کیونکہ میں وہ نہیں ہوں جو کسی ایسی پارٹی کے ساتھ گٹھ جوڑ کروں جو میری پارٹی کو تباہ کرنے کے لئے کمر بستہ ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: فاروق عبداللہ نے نیشنل کانفرنس خصوصی حیثیت کی منسوخی نے کہا کہ انہوں نے کرنے کی کے لئے

پڑھیں:

آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔

بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔

حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان