ایران امریکا جوہری مذاکرات کا دوسرا دور روم میں ہوگا، مقام کی تبدیلی پیشہ ورانہ غلطی ہے، تہران
اشاعت کی تاریخ: 16th, April 2025 GMT
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایران امریکا جوہری مذاکرات کے مقام کو فٹبال کے گول پوسٹ سے تشبیہ دیدی۔ انکا کہنا تھا کہ مذاکرات کے مقام کی تبدیلی پیشہ ورانہ غلطی ہے، ایسا اقدام نیک نیتی اور سنجیدگی کی کمی سمجھا جا سکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران امریکا جوہری مذاکرات کا دوسرا دور ہفتے کو اٹلی کے دارالحکومت روم میں ہوگا۔ اس سے پہلے مذاکرات مسقط میں ہونے کی اطلاعات تھیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایران امریکا جوہری مذاکرات کے مقام کو فٹبال کے گول پوسٹ سے تشبیہ دے دی۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے مقام کی تبدیلی پیشہ ورانہ غلطی ہے، ایسا اقدام نیک نیتی اور سنجیدگی کی کمی سمجھا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا گول پوسٹ کی تبدیلی کسی بھی شروعات کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ ایران امریکا جوہری مذکرات کا پہلا دور گذشتہ ہفتے عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہوا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایران امریکا جوہری مذاکرات مذاکرات کے مقام کی تبدیلی
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔