عمر ایوب پولیس کو چکمہ دے کر بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کے پاس پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 17th, April 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب پولیس کو چکمہ دے کر بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کے پاس پہنچ گئے۔
عمر ایوب کو داہگل ناکے سے پہلے گورکھپور ناکے پر دیگر رہنماؤں کے ساتھ روک دیا گیا تھا، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب گورکھپور ناکے سے موٹر سائیکل پر اڈیالہ جیل روانہ ہوئے۔
عمر ایوب گورکھپور ناکے پر پولیس کو چکمہ دے کر داہگل ناکے کی طرف روانہ ہوگئے، ان کا کہنا تھا کہ مجھے جیل کی طرف جانے سے روکا گیا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب نے کہا کہ میں اب راستہ بدل کر جیل کے دوسرے ناکے پر جانے کی کوشش کروں گا، ہم تمام تر مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: عمر ایوب
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔