پاکستان ویمنز ٹیم نے آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ 2025 کے لیے کوالیفائی کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, April 2025 GMT
لاہور:
پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم نے آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ کوالیفائر میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تھائی لینڈ ویمنز ٹیم کو 87 رنز سے شکست دے دی، اور اس کے ساتھ ہی 2025 میں بھارت میں ہونے والے ویمنز ورلڈ کپ کے لیے اپنی جگہ یقینی بنا لی۔
قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے اہم میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ ابتدا میں بیٹنگ لائن مشکلات کا شکار ہوئی اور 85 رنز پر 4 کھلاڑی آؤٹ ہو گئے، لیکن اوپنر سدرہ امین نے 105 گیندوں پر 80 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیل کر اننگز کو سنبھالا۔
کپتان فاطمہ ثناء نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 59 گیندوں پر ناقابلِ شکست 62 رنز بنائے، جس میں 6 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔ انہوں نے سدرہ امین کے ساتھ 97 رنز کی قیمتی شراکت قائم کی، جس کی بدولت پاکستان نے مقررہ 50 اوورز میں 205 رنز بنائے۔
تھائی لینڈ کی جانب سے تھپچا پتاوونگ نے 26 رنز دے کر 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، جب کہ مایا اور کامچومفو نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔
جواب میں تھائی لینڈ کی ٹیم 34.
تھائی لینڈ کی کوئی بھی بیٹر 20 رنز کا ہندسہ عبور نہ کر سکی۔ ناناپت کونچارونکائی 19 رنز کے ساتھ نمایاں رہیں۔
یہ پاکستان ویمنز ٹیم کی کوالیفائرز میں مسلسل چوتھی فتح تھی، جس کے ساتھ ہی وہ ورلڈ کپ 2025 میں شرکت کی اہل بن گئی ہے۔
Post Views: 5
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: تھائی لینڈ کے ساتھ ورلڈ کپ
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔