خریداروں کیلئے خوشخبری ، سولرسسٹم، بیٹریاں اور یو پی ایس سستے ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 20th, April 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان میں یو پی ایس اور سولر بیٹریوں کی قیمتوں میں اپریل 2025 کے دوران ردوبدل دیکھا گیا ہے۔ جہاں روایتی بیٹریوں کی قیمت میں معمولی اضافہ ہوا ہے وہیں لیتھیم بیٹریاں سستے داموں دستیاب ہیں۔ جس سے صارفین کو بجلی کے متبادل ذرائع میسر آ رہے ہیں۔
اس کے علاؤہ سولر پینلز بھی سستے ہوئے ہیں۔
بیٹریوں کی تازہ ترین قیمتیں (اپریل 2025) 20 تا 40 ایمپیئر آور| AGS | GR-46 | 9 | 30 Ah | 9,600 |
| Exide | SOLAR-50 | 5 | 20 Ah | 7,000 |
| Osaka | 12GEN-MR35 | 5 | 20 Ah | 7,200 |
| Phoenix | XP50+L | 9 | 32 Ah | 11,300 |
| Volta | CR65L+ | 11 | 40 Ah | 13,100 |
| AGS | GR-65 | 13 | 45 Ah | 13,400 |
| Exide | N65L | 11 | 45 Ah | 13,100 |
| Phoenix | XP-75R | 9 | 50 Ah | 15,200 |
| Volta | MF80L | 11 | 75 Ah | 17,500 |
| Osaka | MF-100L | 13 | 80 Ah | 19,000 |
| AGS | HB-100R | 15 | 80 Ah | 20,500 |
| Exide | HP150 | 13 | 95 Ah | 26,250 |
| Osaka | T125-S | 15 | 100 Ah | 23,000 |
| Volta | P-135 S | 17 | 105 Ah | 28,500 |
حالیہ رپورٹ کے مطابق، سولر پینلز کی قیمت 30 سے 28 روپے فی واٹ تک پہنچ گئی ہے، جونمایاں کمی ہے۔ اس کمی کو ماہرین درآمدات میں اضافے اور حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
| لونجی | ہائی مو X10 | 37 |
| لونجی | سنگل گلاس | 29 |
| لونجی | بائی فیشل ڈبل گلاس ہائی-مو 7 | 33 |
| جے اے | سنگل گلاس | 28 |
| جے اے | بائی فیشل ڈبل گلاس | 30 |
| جنکو | سنگل گلاس | 28 |
| جنکو | این ٹائپ ڈبل گلاس | 31 |
| ٹرائنا | سنگل گلاس | 28 |
| ٹرائنا | این ٹائپ | 31 |
| کینیڈین | ٹاپ کان | 33 |
| جے ایم | دستاویزی | 27 |
| ایسٹرو انرجی | دستاویزی | 30 |
| رینا | دستاویزی | 28 |
| فونُو | دستاویزی | 27 |
| ہواسن | — | 29 |
| زیڈ این شائن | — | 29 |
| اوسٹا انرجی | — | 29 |
| میسن | — | 28 |
وفاقی وزیر اویس لغاری کے مطابق پاکستان نے گزشتہ سال 8,000 میگاواٹ کے سولر پینلز درآمد کیے۔ اب مقامی سطح پر سولر انورٹر اور دیگر اشیاء کی تیاری کے پلانٹس لگانے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے، جس سے مقامی صنعت کو فروغ ملے گا۔
مزیدپڑھیں:سندھ حکومت کی طرف سے خواتین کے لیے مفت الیکٹرک اسکوٹی اسکیم، اہلیت کی شرائط کیا ہیں؟
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: بیٹریوں کی سولر پینلز کی قیمت 000 روپے
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔