سینیئر سیاستدان و ممبر قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے سینیئر صحافی معید پیرزادہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ آپ تو مردہ باپ کے انگھوٹے لگواتے ہوئے پکڑے گئے تھے۔

سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر معید پیرزادہ کے ویڈیو بیان کا ایک لنک شیئر کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے لکھا کہ بے شرموں کی فہرست بڑھنے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے ہمارے تمام خود ساختہ پی ٹی آئی سپورٹر و یوٹیوبرز چور اور ٹھگ ہیں۔ واضح رہے کہ معید پیرزادہ نے اپنی گفتگو میں شیر افضل مروت کو اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب پی ٹی آئی کا کوئی لیڈر باہر نہیں نکل پا رہا تھا تو شیر افضل مروت ملک بھر میں جلسے کررہے تھے۔ انہوں نے مزید کہاکہ مجھے تو اسی وقت معلوم ہوگیا تھا کہ یہ کس کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں۔ یہ بھی واضح رہے کہ شیر افضل مروت کو پی ٹی آئی کے بیان عمران خان کی ہدایت پر پارٹی سے نکال دیا گیا ہے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ جب تک وہ خود عمران خان کے منہ سے یہ بات نہیں سنیں گے تب تک وہ بانی کے ساتھ کھڑے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آڑے ہاتھوں لیا اسٹیبلشمنٹ ایکس پی ٹی آئی شیر افضل مروت علیمہ خان عمران خان معید پیرزادہ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا ڑے ہاتھوں لیا اسٹیبلشمنٹ ایکس پی ٹی ا ئی شیر افضل مروت علیمہ خان معید پیرزادہ وی نیوز شیر افضل مروت معید پیرزادہ

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف