ہیٹ ویو کے خطرات؛ تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی تعطیلات کب ہوں گی؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, April 2025 GMT
ملک میں موسم گرما سے قبل ہی گرمی کی شدت بڑھتی جا رہی ہے جب کہ کئی شہروں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ریکارد کیا گیا ہے۔
پنجاب میں شدید گرمی اور متوقع ہیٹ ویو کے پیش نظر اسکولوں کی گرمیوں کی چھٹیوں کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے مطابق محکمہ اسکول ایجوکیشن نے وزیراعلیٰ مریم نواز سے درخواست کی ہے کہ چھٹیاں یکم جون ہی سے شروع کی جائیں، تاہم ہیٹ ویو کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے تاریخ میں رد و بدل بھی ممکن ہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق سیکرٹری تعلیم پنجاب خالد نذیر وٹو کے مطابق محکمہ تعلیم نے ہیٹ ویو کے خدشے کے باوجود تعطیلات کے لیے سالانہ تعلیمی کیلنڈر کے مطابق ہی تاریخ تجویز کی ہے، تاہم موسم کی شدت میں اضافے کی صورت میں قبل از وقت چھٹیوں کا فیصلہ بھی خارج از امکان نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے وزیراعلیٰ سے گزارش کی ہے کہ تعطیلات یکم جون سے شروع کی جائیں۔ حتمی منظوری مریم نواز دیں گی، جس میں گرمی کی شدت اور متعلقہ ماہرین کی پیش گوئی کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ پنجاب حکومت نے اپریل کے آغاز میں اسکولوں کے اوقات میں 30 منٹ کی کمی کی تھی اور یہ نیا شیڈول 7 اپریل سے نافذ ہے جو 15 اکتوبر تک لاگو رہے گا۔ اب اسکول صبح 7:30 بجے کھلتے ہیں جبکہ بند ہونے کے اوقات سنگل اور ڈبل شفٹ کے لحاظ سے مختلف رکھے گئے ہیں۔
اگرچہ اسکولوں کے اوقات میں نرمی کی گئی ہے، مگر والدین کی بڑی تعداد شدید گرمی میں بچوں کی صحت کے حوالے سے تحفظات رکھتی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت جلد از جلد موسم گرما کی تعطیلات کا باقاعدہ اعلان کرے تاکہ بچوں کو ہیٹ ویو سے محفوظ رکھا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق ہیٹ ویو کی شدت
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔