چین نے بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کے تصور پر عمل کیا ہے، وزارت خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
چین نے بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کے تصور پر عمل کیا ہے، وزارت خارجہ WhatsAppFacebookTwitter 0 22 April, 2025 سب نیوز
بیجنگ :چینی وزارت خارجہ کی یومیہ پریس کانفرنس کے دوران ، گلوبل سیکیورٹی انیشی ایٹو کی تیسری سالگرہ پر اس عالمی اقدام کی نمایاں کامیابیوں کا تعارف پیش کرتے ہوئے ترجمان گوو جیا کھون نے کہا کہ چینی صدر شی جن پھنگ کی قیادت میں گزشتہ تین برسوں کے دوران چین نے بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کے تصور پر عمل کیا ہے اور عالمی سلامتی انیشی ایٹو کو مکمل طور پر نافذ کرنے کے لیے تمام فریقوں کے ساتھ مل کر کام کیا ہے اور کئی اہم پیش رفت کی ہے۔ اس وقت عالمی سلامتی انیشی ایٹو کو 120 سے زائد ممالک اور خطوں اور بین الاقوامی تنظیموں کی حمایت حاصل ہے اور متعلقہ ممالک اور تنظیموں کے ساتھ چین کے تبادلوں کے بارے میں 120 سے زیادہ دو طرفہ اور کثیر جہتی دستاویزات میں اسے شامل کیا گیا ہے۔
اس انیشی ایٹو کے فریم ورک کے تحت مختلف شعبوں میں تعاون مسلسل آگے بڑھ رہا ہے اور ابتدائی نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔ اس انیشی ایٹو کی رہنمائی میں، چین ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکہ اور دیگر خطوں کے ترقی پذیر ممالک کی اپنی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کے تحفظ میں مضبوطی سے حمایت کرتا ہے۔ چین نے کچھ ایشیائی اور افریقی ممالک کے ساتھ تعاون کے حوالے سے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں، ترقی پذیر ممالک کے لیے سیکیورٹی گورننس کے مختلف پہلووں میں تربیت فراہم کی ہے، اور امن و سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے “جنوبی طاقت” کو مسلسل مضبوط کیا ہے۔ چین نے سلامتی کونسل کے مستقل رکن کے طور پر اپنا کردار مکمل طور پر ادا کیا ہے،
یوکرینی بحران، اسرائیل فلسطین تنازعہ، مسئلہ افغانستان اور دیگر مسائل پر پوزیشن پیپرز جاری کیے ہیں، برازیل اور دیگر گلوبل ساوتھ ممالک کے ساتھ یوکرینی بحران پر “فرینڈز آف پیس” گروپ کا آغاز کیا ہے، سعودی عرب اور ایران کے درمیان کامیاب مفاہمت کے لئے ثالثی کی ہے، فلسطین میں اندرونی مفاہمت کو فروغ دیا ہےاور تنازعات اور اختلافات کو حل کرنے اور خطرات اور بحرانوں سے نمٹنے کے لیے ایک قابل عمل حل فراہم کیا ہے۔
چین غیر روایتی سیکیورٹی خطرات کا فعال طور پر جواب دیتا ہے اور اقوام متحدہ کی عالمی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کو مکمل طور پر نافذ کرتا ہے۔ اس سال عالمی اینٹی فاشسٹ جنگ کی فتح کی 80 ویں سالگرہ اور اقوام متحدہ کے قیام کی 80 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ چین عالمی سلامتی انیشی ایٹو پر عمل درآمد جاری رکھنے اور پائیدار امن اور عالمگیر سلامتی کی حامل دنیا کی تعمیر کے لیے تمام فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹیرف جنگ کے تناظر میں اتحادیوں کا امریکہ پر اعتماد انتہائی کم ہو چکا ہے، چینی میڈیا ٹیرف جنگ کے تناظر میں اتحادیوں کا امریکہ پر اعتماد انتہائی کم ہو چکا ہے، چینی میڈیا آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کا خسارہ 7222ہزار ارب روپے رہنے کا امکان چائنا میڈیا گروپ کے ایونٹ “گلیمرس چائینیز 2025 ” کا کامیاب انعقاد چین، دنیا کی پہلی ہیومنائیڈ روبوٹ ہاف میراتھن کا انعقاد چین اور گبون نے سیاسی باہمی اعتماد کو گہرا کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے، چینی صدر چین اور ایکواڈور جامع اسٹریٹجک شراکت دار ہیں، چینی صدرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔