پی ایس ایل یا آئی پی ایل؛ رمیز کی زبان پھر پھسل گئی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT
ملتان (نیوز ڈیسک)پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی پریزینٹیشن کے دوران انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) کا ذکر کرنے پر رمیز راجا پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گئے۔
سابق چیئرمین پی سی بی رمیز راجا نے گزشتہ روز پریزینٹیشن کے دوران ایک معمولی سی غلطی کی، جس نے سوشل میڈیا پر ممیز کا طوفان برپا کردیا۔
میچ کے بعد منعقد ہونیوالی پریزینٹیشن کے دوران رمیز راجا نے غلطی سے ایچ بی ایل آئی پی ایل کہہ دیا جبکہ وہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی کمنٹری کررہے تھے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آئی پی ایل بمقابلہ پی ایس ایل سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کرنے لگا جبکہ صارفین نے خوب میمز بھی بنائیں۔
ایک صارف نے مزاحیہ انداز اپناتے ہوئے لکھا کہ رمیز صاحب کا دل آئی پی ایل میں ہی رہ گیا ہے۔
دوسری جانب رمیز راجا نے اپنے بیان کو زبانی لغزش قرار دیا ہے، انکا کہنا تھا کہ پی ایس ایل کو ہی سب سے بہتر لیگ سمجھتا ہوں، ویسے دونوں لیگز کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔
مزید پڑھیں: لاہور میں بجلی پیدا کرنے والی ملک کی پہلی سڑک تیار
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ا ئی پی ایل سوشل میڈیا پی ایس ایل
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔