ثانیہ مرزا نے ماں بننے کے تجربے اور ریٹائرمنٹ کے فیصلے پر کھل کر بات کی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT
ٹینس کی سابق اسٹار اور بھارت کی مایہ ناز کھلاڑی، ثانیہ مرزا نے حال ہی میں پوڈکاسٹر معصوم مینوالا سے ایک بے تکلف گفتگو میں اپنی ذاتی زندگی کے اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ماں بننے کے تجربے، حمل کے دوران کی جسمانی اور جذباتی کیفیت، بچے کو دودھ پلانے کے سفر اور اپنی ریٹائرمنٹ کے فیصلے کے پس منظر پر تفصیل سے بات کی۔
ثانیہ مرزا نے بتایا کہ ریٹائرمنٹ کا فیصلہ محض جسمانی حالت یا کیریئر کے تقاضوں کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ اس کی ایک بڑی وجہ ان کا اپنے بیٹے ازہان کے ساتھ وقت گزارنے کی خواہش تھی۔ ان کا کہنا تھا، "میری سب سے بڑی ترجیحات میں سے ایک یہ تھی کہ میں اپنے بیٹے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاروں۔ کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ وہ عمر کا ایسا دور ہے جب بچوں کو اپنے والدین کے ساتھ ہونے کا احساس اور تحفظ چاہیے ہوتا ہے۔ میں وہ وقت کھونا نہیں چاہتی تھی۔"
چار بار اولمپکس میں بھارت کی نمائندگی کرنے والی ثانیہ نے بتایا کہ جب وہ پہلی بار ازہان کو چھوڑ کر دہلی ایک ایونٹ کے لیے گئیں، تو ان کا بیٹا صرف چھ ہفتے کا تھا۔ انہوں نے کہا، "شاید وہ میری زندگی کی سب سے مشکل فلائٹ تھی۔ مجھے ایسا لگا کہ میں یہ نہیں کر سکتی۔ میں جذباتی ہو رہی تھی، لیکن مجھے خوشی ہے کہ میں گئی۔ اگر میں وہ فلائٹ نہ لیتی تو شاید کبھی اُسے چھوڑ کر کام کرنے کے قابل نہ ہوتی۔"
انہوں نے مزید بتایا کہ وہ صبح دہلی روانہ ہوئیں اور شام کو واپس حیدرآباد آگئیں۔ "وہ بالکل ٹھیک تھا۔ میں بھی بالکل ٹھیک تھی۔ انہوں نے کہا کہ میں تین بار حاملہ ہوسکتی ہوں لیکن دودھ پلانے کا مرحلہ میرے لیے سب سے مشکل تھا۔
ثانیہ مرزا کی یہ گفتگو نہ صرف ان کی ماں ہونے کی جدوجہد کو اجاگر کرتی ہے بلکہ ایک عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی کی حیثیت سے ان کے مضبوط جذبات اور قربانیوں کو بھی نمایاں کرتی ہے۔ ان کا تجربہ بے شمار ماؤں کے لیے ایک متاثرکن مثال بن کر سامنے آیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ثانیہ مرزا انہوں نے کہ میں
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔