پیر پگارا کا فوج کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار، حر جماعت کو دفاع کیلئے تیار رہنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )حر جماعت کے روحانی پیشوا اور ممتاز سیاسی شخصیت پیر صاحب پگارا نے خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے پیش نظر پوری حر جماعت کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہر لمحہ پاکستان کے دفاع، سلامتی اور استحکام کے لیے افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ تیار رہیں۔
اپنے ایک اہم بیان میں پیر پگارا نے کہا کہ مادر وطن کا دفاع ہمارے لیے ہر چیز پر مقدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی نازک موقع پر نہ صرف حر جماعت بلکہ پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں ہمیں سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔پیر صاحب پگارا نے زور دیا کہ یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ پاکستان کے تحفظ اور دفاع کے بارے میں سوچنے کا ہے۔
سابق کرکٹر اور کمنٹیٹر انتقال کر گئے
پیر پگارا نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہر قسم کے داخلی و خارجی خطرات اور چیلنجز سے محفوظ رکھے اور ملک کو امن و استحکام عطا فرمائے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پاکستان کے پگارا نے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔