حر جماعت افواج پاکستان کے شانہ بشانہ رہیں، پیر پگارا کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
فائل فوٹو
حروں کے روحانی پیشوا پیر صاحب پگارا نے خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے پیش نظر اپنی پوری حر جماعت کو حکم دیا ہے کہ وہ پاکستان کے دفاع، سلامتی اور اس کے استحکام کے لیے ہمہ وقت افواج پاکستان کے شانہ بشانہ رہیں-
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ مادر وطن کا دفاع ہمارے لئے ہر چیز پر مقدم ہے، کسی بھی نازک موقع پر پوری قوم اور حر جماعت اپنی مسلح افواج کے ساتھ ہے-
پیر پگارا نے مزید کہا کہ اختلافی سیاسی معاملات کو ہم بعد میں دیکھ لیں گے یہ وقت سیاست کا نہیں پاکستان کے تحفظ اور دفاع کے بارے میں سوچنے کا ہے۔
واضح رہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں فائرنگ سے 26 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کردیا ہے۔
بھارت نے اٹاری چیک پوسٹ بند کرنے اور بھارت میں موجود پاکستانیوں کو 48 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم بھی دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پاکستان کے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :