سب پوچھتے ہیں عمران خان کب رہا ہونگے: عارف علوی
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما و سابق صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ سب پوچھتے ہیں بانیٔ پی ٹی آئی کب رہا ہوں گے۔
لندن میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عارف علوی نے کہا کہ پچھلے 70 سال میں کوئی ایسا لیڈر پیدا نہیں ہوا جس کی شہرت 90 فیصد ہو، انتخابی نشان چھن جانے پر میں نے بانی سے کہا کہ الیکش ملتوی ہونے چاہئیں۔
عارف علوی نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ الیکشن ایک دن کے لیے ملتوی نہیں ہونے چاہئیں، جس دن الیکشن ہوا کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ صبح کیا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ لڑکوں نے اپنے بزرگوں کے ہاتھوں پر نقشے بنائے کہ یہ انتخابی نشان ہے بھولنا مت۔
پی ٹی آئی رہنما نے یہ بھی کہا کہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کہاں سے آئے، کسی کو معلوم ہے تو آج تو بتا دے، کچھ تو شرم و حیا کریں اور بتا دیں کہ یہ ہیں وہ ذرائع۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عارف علوی نے کہا کہ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔