پریشان کن خبر ،ٹائیفائیڈ بخار میں مہلک تبدیلی، علاج کا آخری حل بھی ناکام
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
دنیا ایک بار پھر ایک مہلک بیماری کے بڑھتے ہوئے خطرے کا سامنا کر رہی ہے۔ ٹائیفائیڈ بخار، جو اب اپنی نئی شکل میں انتہائی خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔ سائنسدانوں کی نئی تحقیق کے مطابق، ’سیلمونیلا ٹائیفی‘ نامی بیکٹیریا جو ٹائیفائیڈ کا سبب بنتا ہے، اب کئی مؤثر اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت پیدا کر چکا ہے، جن میں وہ ادویات بھی شامل ہیں جو پہلے ’آخری حل‘ سمجھی جاتی تھیں۔
جدید تحقیق کی سنگین وارننگ
ایک بین الاقوامی تحقیق کے مطابق، ٹائیفائیڈ کی وہ اقسام جو اب دنیا بھر میں پھیل رہی ہیں، خاص طور پر جنوبی ایشیا سے، انہیں ’ایکسٹینسِولی ڈرگ ریزسٹنٹ‘ یا ’ایکس ڈی آر‘ یعنی انتہائی مزاحم اقسام قرار دیا گیا ہے۔ یہ اقسام ’فلوئوروکوئنولونز‘ اور تیسری نسل کی ’سیفالوسپورِنز‘ جیسی جدید اور طاقتور ادویات کے خلاف بھی مؤثر مزاحمت دکھا رہی ہیں۔
اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹر جیسن اینڈریوز کا کہنا ہے، ’جس رفتار سے یہ مزاحم اقسام سامنے آ رہی ہیں اور دنیا بھر میں پھیل رہی ہیں، وہ باعثِ تشویش ہے۔ اس بات کی فوری ضرورت ہے کہ ان بیماریوں سے متاثرہ ممالک میں روک تھام کے اقدامات کو وسعت دی جائے۔
بیماری کا عالمی پھیلاؤ
تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ 1990 سے اب تک ٹائیفائیڈ کی یہ مزاحم اقسام تقریباً 200 بار مختلف ممالک میں منتقل ہو چکی ہیں۔ 2016 میں پاکستان میں اس بیماری کی ایک سپر ریزسٹنٹ قسم دریافت ہوئی، جو چند سالوں میں ملک میں سب سے زیادہ عام قسم بن چکی ہے۔
علاج میں مشکلات اور ممکنہ بحران
عالمی سطح پر ہر سال ٹائیفائیڈ بخار کے ایک کروڑ 10 لاکھ کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، جن میں سے تقریباً 1 لاکھ افراد اس کا شکار ہو کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اگر اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے، تو یہ بیماری ہر پانچ میں سے ایک مریض کے لیے مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔ اب جبکہ مزاحم اقسام عام ہو رہی ہیں، علاج مزید پیچیدہ اور مہنگا ہو رہا ہے۔
ویکسین کی ضرورت اور رسائی کا بحران
اگرچہ ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کے لیے ویکسین موجود ہے، مگر دنیا کے کئی حصوں میں، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں، لوگوں کو ان ویکسینز تک رسائی حاصل نہیں۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو دنیا ایک نئے صحت کے بحران کا سامنا کر سکتی ہے۔
حفاظتی تدابیر اور عوامی شعور کی ضرورت
ٹائیفائیڈ کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر درج ذیل اقدامات پر فوری عمل درآمد ناگزیر ہے:
صاف پانی اور حفظانِ صحت کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔
ویکسینیشن مہمات کو ترجیح دی جائے، خاص طور پر خطرے سے دوچار علاقوں میں۔
اینٹی بایوٹکس کا غیر ضروری اور بے جا استعمال بند کیا جائے تاکہ مزید مزاحمت نہ بڑھے۔
عوامی سطح پر شعور بیدار کیا جائے تاکہ ابتدائی علامات پر بروقت تشخیص و علاج ممکن ہو۔
ٹائیفائیڈ بخار کی نئی، خطرناک اقسام ہمارے عالمی صحت کے نظام کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہیں۔ یہ وقت ہے کہ حکومتیں، طبی ادارے اور عوام سب مل کر اس چیلنج کا مقابلہ کریں، وگرنہ صدیوں پرانی بیماری ایک بار پھر انسانیت کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
قدیم انجینیئرنگ سے دنیا حیران، 2 ہزار سال پرانا چینی تالا جسے کھولنے کے لیے محض چابی نہیں بڑا دماغ بھی چاہیے
قدیم چینی انجینیئرنگ کا ایک نادر شاہکار ایک بار پھر دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ قدیم چینی انجینیئر کی جانب سے بنایا گیا ایسا پزل ’تالا‘ جس نے دیکھنے والوں کو حیران کر دیا ہے، 2 ہزار سال سے زیادہ پرانی شاندار انجینیئرنگ کا یہ شاہکار ایسا ہے کہ اسے کھولنے کے لیے محض تالا ہی نہیں ذہانت اور بڑا دماغ بھی چاہیے۔
چینی پزل تالا اپنی پیچیدہ ساخت اور غیر معمولی سیکیورٹی نظام کی بدولت سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے، جہاں صارفین اس کی انجینیئرنگ اور ڈیزائن کو حیرت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
This ancient Chinese lock is to hard to unlock pic.twitter.com/8xcgM5BR94
— TrendSphere360 (@BraveSoulsSpace) July 23, 2026
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں پیتل کی رنگت والے قدیم تالے کو ایک خاص شکل کی چابی کے ذریعے کھولتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں واضح ہے کہ صرف درست چابی ہونا کافی نہیں بلکہ تالے کو کھولنے کے لیے مخصوص ترتیب، مہارت اور میکانیکی سمجھ اور بڑا دماغ بھی ضروری ہے۔
صرف چابی نہیں، درست طریقہ بھی ضرورییہ تالاعام تالوں کی طرح صرف چابی گھمانے سے نہیں کھلتا بلکہ ایک مکمل پزل کی صورت میں تیار کیا گیا ہے۔ اسے کھولنے کے لیے ‘T’ یا ‘L’ نما چابی کو مخصوص سلاٹس میں داخل کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بشام میں چینی انجینیئرز پر حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، وزیر داخلہ نے تفصیلات سامنے رکھ دیں
پھر اسے پوشیدہ راستوں کے اندر مختلف زاویوں سے سلائیڈ اور موڑا جاتا ہے۔ تمام مراحل درست ترتیب سے مکمل ہونے کے بعد ہی تالے کا شیکل آزاد ہوتا ہے اورتالاکھلتا ہے۔ یہی پیچیدہ طریقہ کار اسے روایتی تالوں سے منفرد بناتا ہے اور اس کی سیکیورٹی کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔
قدیم انجینیئرنگ کا منفرد نمونہتاریخی حوالوں کے مطابق ان تالوں کو ‘کمپلیکس پزل لاکس’، ‘یوکیوو لاکس’، ‘چائنیز پیڈ لاکس’ یا ‘میز لاکس’ بھی کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دو ہزار سال سے زیادہ پرانی چینی انجینیئرنگ اور دھات سازی کی اعلیٰ مثالیں ہیں۔
عام پن ٹمبلر یا مغربی تالوں کے برعکس ان میں پوشیدہ کی ہولز، سلائیڈنگ بارز، اسپرنگز، ملٹی اسٹیج رکاوٹیں اور پیچیدہ اندرونی راستے بنائے جاتے تھے، جنہیں عبور کرنے کے لیے نہ صرف درست چابی بلکہ اس کے استعمال کی مکمل ترتیب جاننا بھی ضروری ہوتا تھا۔
مختلف اقسام اور منفرد چابیاںماہرین نے ان قدیم تالوں کو کئی اقسام میں تقسیم کیا ہے، جن میں اضافی رکاوٹ والے تالے، میز لاکس، دو حصوں والے تالے اور پوشیدہ کی ہول والے تالے شامل ہیں۔
ان تالوں کی چابیاں بھی عام چابیوں سے مختلف ہوتی تھیں۔ انہیں مخصوص موڑ، کٹاؤ، نوچوں اور منفرد ساخت کے ساتھ تیار کیا جاتا تھا تاکہ وہ صرف متعلقہ تالے کے اندرونی میکانزم کے مطابق ہی حرکت کر سکیں۔
مزید پڑھیں:فِلنگ اور امپلانٹس کا دور ختم ہونے والا ہے؟ سائنسدان انسانی دانت دوبارہ اگانے کے نزدیک
بعض ڈیزائن قدیم ثقافتی اثرات، خصوصاً بڑے لوہے کے تالوں پر ممکنہ عربی اثرات سے متاثر تھے، تاہم چینی کاریگروں نے انہیں پزل نما انداز دے کر منفرد شناخت فراہم کی۔
صرف سیکیورٹی نہیں، ذہنی تربیت بھییہ تالے قیمتی اشیا، صندوقوں، دروازوں اور دیگر سامان کی حفاظت کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔ ان کی پیچیدگی کی وجہ سے اگر کسی شخص کے پاس چابی بھی موجود ہوتی تو بھی وہ درست طریقہ کار جانے بغیرتالا نہیں کھول سکتا تھا، جس سے چوری کے امکانات کم ہو جاتے تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تالوں کا مقصد صرف حفاظت فراہم کرنا نہیں تھا بلکہ یہ میکانیکی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور تخلیقی ذہن کی تربیت کا ذریعہ بھی تھے، بالکل اسی طرح جیسے آج کے جدید پزل باکسز۔
تحریری ریکارڈ کم، دلچسپی زیادہتاریخی ماہرین کے مطابق ان میں سے بیشتر تالے عام لوہار تیار کرتے تھے اور اس دور میں انہیں کسی مخصوص برانڈ یا نام سے منسوب نہیں کیا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے ان کی تیاری کے طریقہ کار اور تکنیکی تفصیلات پر تحریری مواد نہایت محدود ہے، جس نے آج بھی انہیں ایک پراسرار حیثیت دے رکھی ہے۔
جدید انجینیئرنگ کے لیے بھی دلچسپی کا باعثسائنسی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ ان قدیم تالوں کا ڈھانچہ موجودہ دور کے بیشتر تالوں سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔ اگرچہ ان کی ساخت نسبتاً سادہ دکھائی دیتی ہے، لیکن ان کے اندر موجود میکانزم آج کے انجینیئرز کے لیے بھی تحقیق اور دلچسپی کا موضوع ہے۔
مزید پڑھیں:ہواوے کا نئی اسمارٹ فون چِپ لانچ کرنے کا اعلان، اینویڈیا اور ایپل سے مقابلہ مزید تیز
ماہرین کے مطابق یہ قدیم چینی پزل لاکس اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ صنعتی دور سے کئی صدیوں پہلے بھی انجینیئرنگ، دھات سازی اور سیکیورٹی کے شعبوں میں غیر معمولی مہارت موجود تھی۔
قدیم چین میں ایسے پزل تالے نہ صرف قیمتی سامان کی حفاظت کے لیے استعمال ہوتے تھے بلکہ انہیں ذہانت، مہارت اور فنی تخلیق کا مظہر بھی سمجھا جاتا تھا۔
آج سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ ہزاروں سال پرانی انجینیئرنگ بھی جدید دور کے انسان کو حیران اور متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ان تالوں کی پیچیدہ ساخت اس بات کی یاد دلاتی ہے کہ قدیم تہذیبوں کی سائنسی اور فنی مہارت اپنے وقت سے کہیں آگے تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایکس پیٹل چینی تالا سماجی رابطے شاندار انجینیئرنگ۔ صرف چابی قدیم انجینیئرنگ منفرد نمونہ ویب سائٹ ویڈیو