پاکستانی رینجرز سے ہاتھ مت ملاؤ؛ مودی سرکار کی بی ایس ایف جوانوں کو احمقانہ ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
سٹی42: انڈیا نے زبردستی کشیدگی پیدا کرنے کی مسلسل حرکتیں بند نہیں کیں، آج بھارت نے واہگہ بارڈر اور گنڈا سنگھ والابارڈر اور ہیڈ سلیمانکی بارڈر پر روزانہ صبح شام پرچم لہرانے کے ساتھ ہونے والی روایتی پریڈ محدود کردی۔
رپورٹ کے مطابق انڈیا کی طرف سے آگاہ کیا گیا ہے کہ کل سے اس پریڈ کے دوران دونوں ملکوں کے گیٹ بند رہیں گے۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ بارڈر پر روزانہ معمول کی پریڈ کے دوران رینجرز اور بی ایس ایف کے جوان ایک دوسرے سے روایتی مصافحہ نہیں کریں گے۔
پی ایس ایل10؛ ملتان سلطانز کا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
واہگہ، گنڈاسنگھ والا اور ہیڈ سلیمانیکی تینوں مقامات پر پریڈ ہوتی ہے۔
بھارت کی ایک اور اوچھی حرکت
بھارتی حکام نے ایک اور اوچھی حرکت کرتے ہوئے واہگہ-اٹاری بارڈر پر رینجرز اور بی ایس ایف انڈیا کے مابین ہونے والی روایتی پریڈ محدود کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں پہلگام حملے کے بعد بھارت کی ہندوتوا کی پرچارک نریندر مودی حکومت پاکستان کے ساتھ زبردستی کشیدگی کا تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ اب اس نے نے واہگہ اٹاری بارڈر، گنڈاسنگھ، حسینی والا بارڈر اور ہیڈسلیمانیکی بارڈر پر ہونے والی پاکستان رینجرز پنجاب اور بی ایس ایف انڈیا کے جوانوں کی روزانہ پریڈ میں نمایاں تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔
زیلنسکی کا کریمیا پر روسی قبضہ ماننے سے انکار، امریکہ کے نائب صدر کا یوکرین کو الٹی میٹم
مشترکہ پریڈ کے دوران بھارت کی جانب سے گیٹ بند رہے گا اور نہ ہی اس کی فورس روایتی مصافحہ کرے گی۔
سیکیورٹی ذرائع کےمطابق بی ایس ایف حکام نے اس بارے پاکستان رینجرز کو آگاہ کردیا ہے۔
دونوں ملکوں کی سرحدوں کی رسمی نگرانی کرنے پر مامور فورسز کے مختصر دستے بارڈر کے تین کراسنگ پوائنٹس پر روزانہ صبح شام پرچم لہراتے اور پرچم اتارتے ہین تو اس کے ساتھ مختصر دورانیہ کی پریڈ کی جاتی ہے۔ بارڈر کے دونوں اطراف اس پریڈ کو عام شہری بھی شوق سے دیکھتے ہیں۔ یہ پریڈ دو اطراف تعینات سکیورٹی فورسز کے جوانوں کے درمیان خیر سگالی کےجذبے کے عملی فروغ کا ایک ذریعہ بھی ہے۔دونوں ملکوں کے جوان اپنے اپنے ملک کا جھنڈا اتارتے اور سلامی دیتے ہیں۔
مکہ میں پرمٹ کے بغیر داخلے پر پابندی
پریڈ دیکھنے کے لئے دونوں جانب شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہوتی ہے۔دونوں ملکوں کےمابین کشیدگی کے دوران پریڈ دیکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ شہریوں نے بھارت کے اقدام کوبزدلانہ پروپیگنڈا کارروائی اورافسوسناک عمل قرار دیا ہے۔ بھارت کی طرف سے کیا جانیوالا یکطرفہ فیصلہ قابل مذمت ہے
نواز شریف کا لندن سے فوری پاکستان واپس آنے کا فیصلہ
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔