ملیریا کے عالمی دن پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کا پیغام
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ملیریا کا عالمی دن بین الاقوامی سطح پر عملی اقدامات، ملیریا کے خاتمے اور قابل علاج بیماری کے خلاف جنگ میں آخری حد تک جانے کے عزم کی تجدید کا ایک دن ہے۔
اس سال کا تھیم – “ملیریا کو ختم کرنا ہے، سرمایہ کاری سے اور مزید کوششوں اور نئی تحریک سے ” جس کا مقصد ملیریا کے خاتمے کی جانب پیش رفت کو تیز کرنے کے لیے عالمی پالیسی سے لے کر کمیونٹی ایکشن تک تمام سطحوں پر کوششوں کو از سر نو متحرک کرنا ہے۔
حکومت اور ملکی قیادت، ملیریا کے قومی پروگراموں، اور صحت کے نظام کی اصلاحات و حکمت عملی کے ذریعے، دور دراز علاقوں پہنچنے اور اسے ختم کرنے کے اہداف کو حاصل کرنے کے لئے تیار ہے.
ملیریا کےعالمی دن کے موقع پر، ہم تمام اسٹیک ہولڈرز- حکومت، سول سوسائٹی، ہیلتھ ورکرز، اور بین الاقوامی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ متحد ہو کر اس اہم مشن کے لیے کام کریں۔
Post Views: 1
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ملیریا کے
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔