فوج تیار ہے، پاکستان کےخلاف مہم جوئی کی غلطی نہ دہرائی جائے: اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار---فائل فوٹو
وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج مکمل طور پر تیار ہیں، کسی نے میلی آنکھ سے دیکھا تو جواب ماضی جیسا دیا جائے گا۔
سینیٹ اجلاس سے خطاب میں وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پہلگام واقعے پر پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانا افسوسناک ہے، واقعے میں سیاحوں کی ہلاکت پر ہمیں تشویش ہے، کوئی شواہد نہیں کہ پاکستان کو پہلگام واقعے سے لنک کیا جاتا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے سیاسی فیصلے کر لیے ہیں، ہم سیاسی طور پر سب ایک پیج پر ہیں، قرار داد کی تیاری میں تعاون پر اپوزیشن لیڈر کے شکر گزار ہیں۔
صدر مملکت آصف علی زرداری سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اہم ملاقات کی ہے جس میں پہلگام واقعہ کے بعد بھارت کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ قوم نے ہمیشہ ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا ہے، سفارتی سطح پر بھی کوششیں جاری ہیں، 26 ممالک کو کل بریفنگ دی اور حالات سے آگاہ کیا، دیگر کو آج بریفنگ دی جائے گی، آج سعودی وزیرِ خارجہ سے شام 7 بجے بات ہو گی۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو یکسر مسترد کرتے ہیں، پانی 24 کروڑ پاکستانیوں کی لائف لائن ہے، قومی سلامتی کمیٹی کہہ چکی پانی بند کرنا جنگ کے مترادف ہو گا، سندھ طاس معاہدہ یک طرفہ معطل نہیں کیا جا سکتا، معاہدے میں لکھا ہے کہ اسے ختم کرنا ہے تو اتفاقِ رائے سے ہو گا۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم نے بھارت سے تمام تجارت معطل کردی ہے، اٹاری بارڈر بند کرنے پر پاکستان نے جوابی طور پر واہگہ بارڈر کو بند کیا، بھارتی ہائی کمیشن میں موجود دفاعی اتاشیوں کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا بہتر ہوگا کہ پاکستان کےخلاف مہم جوئی کی غلطی نہ دہرائی جائے، اگر بھارت پیچھے نہ ہٹا تو ہم دوسرے معاہدوں کو یکطرفہ طور پر ختم کرنے پر غور کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث سارک تنظیم غیر فعال ہے، اس خطے میں امن اور ترقی نہیں ہو رہی، اس کی ایک بڑی وجہ بھارت ہے، سارک چاہتا ہے کہ ترقی ہو لیکن ایک ملک کی ہٹ دھڑمی اس کو آگے نہیں جانے دیتی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار نے کہا کہ
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔