پاک بھارت کشیدگی، پیٹرولیم مصنوعات ذخیرہ کرنے کے احکامات جاری
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی جی آئل نے پی ایس او اور آئل مارکیٹینگ کمپنیوں کو ہدایت جاری کر دی ہیں۔ دوسری جانب پیٹرولیم ذرائع نے بتایا کہ جیٹ فیول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل سمیت دیگر پٹرولیم مصنوعات موجود ہیں۔ ڈی جی آئل کی طرف سے ہدایت ملنے کے بعد ایمرجنسی میں حالات سے نمٹنے کیلئے اقدامات کر لئے گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاک بھارت کشیدگی کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی وافر مقدار ذخیرہ کرنے کے احکامات جاری کر دیئے گئے۔ آئل مارکیٹنگ کمپنی ذرائع کے مطابق پہلگام واقعے کے بعد پاک بھارت بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کو وافر مقدار میں ذخیرہ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ احکامات میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور آئل ریفائنری کو ڈیزل اور جیٹ فیول کی زیادہ سے زیادہ دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
علاوہ ازیں پی ایس او سمیت دیگر امپورٹ کرنیوالی کمپنیوں کو بھی آئل بروقت درآمد کرنے کی ہدایت دی گئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی جی آئل نے پی ایس او اور آئل مارکیٹینگ کمپنیوں کو ہدایت جاری کر دی ہیں۔ دوسری جانب پیٹرولیم ذرائع نے بتایا کہ جیٹ فیول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل سمیت دیگر پٹرولیم مصنوعات موجود ہیں۔ ڈی جی آئل کی طرف سے ہدایت ملنے کے بعد ایمرجنسی میں حالات سے نمٹنے کیلئے اقدامات کر لئے گئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈی جی آئل
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔