بلوچستان کے حالات پر پورے ملک کو تشویش ہے، لیاقت بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کی مختلف سیاسی جماعتوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے تاکہ اسلام آباد میں بلوچستان کے موضوع پر منعقدہ قومی کانفرنس کے انعقاد کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان بحران در بحران کا شکار ہے۔ بلوچستان کے حالات پر پورے ملک کو تشویش ہے۔ بلوچستان میں جماعت اسلامی کے سیاسی کمیٹی کا اجلاس ہوا، اس حوالے سے فیصلہ کیا گیا کہ بلوچستان کے موضوع پر جلد اسلام آباد میں ایک قومی کانفرنس منعقد کریں گے۔ نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے وفود سے بھی ملاقاتیں ہوچکی ہے۔ بے گناہ انسانوں کا قتل قابل مذمت ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں 8 لاکھ قابض فوج موجود ہے۔ لاکھوں فوجیوں کے باوجود ایسے واقعات ہندوستان کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ دہلی میں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بھارت کے پاس معاہدہ معطل کرنے کا اختیار نہیں۔ شرمناک عمل ہے کہ بلوچستان میں خواتین کی تذلیل اور گرفتاریاں کی جا رہی ہیں۔ 26 اپریل کو فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے ہڑتال کی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار لیاقت بلوچ نے کوئٹہ پریس کلب میں جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولانا ہدایت الرحمان، سابق امیر مولانا عبدالحق ہاشمی، ڈاکٹر عطاء الرحمان، عبدالمتین اخونزادہ اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے بلوچستان کے امور کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو بلوچستان میں جاری بحران در بحران کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔ اس حوالے سے بلوچستان کی مختلف سیاسی جماعتوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے تاکہ اسلام آباد میں بلوچستان کے موضوع پر منعقدہ قومی کانفرنس کے انعقاد کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 8 لاکھ فوج قابض ہے۔ لاکھوں فوجیوں کے باوجود ایسے واقعات ہندوستان کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ دہلی سے پاکستان پر پروپیگنڈے کی صورت میں خطرات پیدا کئے جا رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کو ایک طرفہ طور پر معطل کیا گیا ہے۔ بھارت کے پاس معاہدے کو معطل کرنے کا اختیار ہی نہیں ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جماعت اسلامی بلوچستان بحران کے حل کے لیے تمام فریقین کے ساتھ مل کر اسلام آباد میں ایک قومی کانفرنس کا انعقاد کرے گی تاکہ سب کو مل بیٹھ کرکے مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کی راہ اپنائی جائے۔ وقت آگیا ہے کہ ہم آپس کے اختلافات ختم کرکے اپنے مسائل کو افہام و تفہیم اور مذاکرات سے حل کریں، کیونکہ مذاکرات سے ہی مسئلے حل ہوجاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بیت المقدس پر اسرائیل کا ناجائز قبضہ ہے۔ فلسطینی ظلم کے خلاف مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔ 26 اپریل کو فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے ہڑتال کی جائے گی۔ پورا ملک اس وقت بڑھے سیاسی بحران کا شکار ہے۔ عوام کے حق رائے دہی کو ہائی جیک کیا گیا ہے۔ ریاست کا پورا نظام مفروج ہوچکا ہے۔ ریاستی ادارے اور عوام کے درمیان فاصلے پیدا ہوچکے ہیں۔ سازش کے تحت ججوں میں تقسیم پیدا کی گئی ہے۔ عدلیہ کے فیصلے بھی مشکوک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کا حق بنتا ہے کہ بلوچستان لوگوں کے آواز سنے۔ بلوچستان میں ٹرین کا ایک المانک واقعہ پیش آیا۔ بلوچستان کے لوگوں کے حقوق کے طرف توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ وفاق سے صوبوں کی شکایت بڑھ رہی ہے۔ بلوچستان میں آئے روز شاہراہیں بند ہوجاتی ہے شاہراہوں کی بندش سے وفاق کو آنکھیں کھلنی چاہیے۔ بلوچستان سمیت دیگر صوبوں کے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلایا جائے۔ بلوچستان انتہائی اہمیت کا حامل صوبہ ہے، مگر یہاں کا نوجوان ناراض ہے۔ بلوچستان سے ریاست سے متعلق خیر کے کلیمات موجود نہیں۔ بلوچستان میں انسانوں کو لاپتہ کیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: لیاقت بلوچ نے کہا اسلام آباد میں سیاسی جماعتوں بلوچستان میں قومی کانفرنس جماعت اسلامی کہ بلوچستان بلوچستان کے نے کہا کہ انہوں نے حوالے سے کے لیے
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔