موسمیاتی تبدیلی پاکستان کیلئے سنگین خطرہ اور بقا کے لیے چیلنج ہے، وفاقی وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
WASHINGTON:
وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے موسمیاتی تبدیلیوں کو پاکستان کے لیے سنگین خطرہ اور بقا کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔
عالمی بینک گروپ اورعالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کے موسم بہار کے اجلاس کے موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں موسمیاتی نقصان اور تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے قائم 'فنڈ فار رینسپانڈگ ٹو لاس اینڈ ڈیمج (ایف آر ایل ڈی)کے اعلیٰ سطح کے مکالمے سے خطاب کیا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے موسمیاتی تبدیلیوں کو پاکستان لیے سنگین خطرہ اور بقا کے لیے چیلنج قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ'فنڈ فار ریسپانڈگ ٹو لاس اینڈ ڈیمج (ایف آر ایل ڈی)' کے قیام کا مقصد ماحولیاتی تبدیلیوں بشمول شدید موسمی واقعات یا آہستگی سے رونما ہونے والی تباہ کاریوں کے خلاف ترقی پذیر ممالک کی مدد کرنا ہے۔
وزیر خزانہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان "لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ" کے قیام کے داعی ممالک میں سے ایک تھا اور اس موقع پر انہوں نے اپنے خطاب میں فنڈ کو جلد از جلد فعال کرنے کی ضرورت اجاگر کی۔
محمد اورنگزیب نے اس عمل کو شفاف ترین بنانے کی حمایت کرتے ہوئے فنڈ کو مناسب چیکس اینڈ بیلنس کے تابع ہونے کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور فنڈ کے زیر اہتمام جلد تر ادائیگیوں کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ فنڈ کو سادہ اور مؤثر اصولوں پر چلانے کی ضرورت ہے، فنڈ کے تحت کم ترقی یافتہ اور ماحولیاتی طور پر کمزور ممالک کو فنڈز کے حصول میں پہلے کی طرح مشکلات نہیں ہونی چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محمد اورنگزیب نے کے لیے
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔