اسلام آباد (ویب ڈیسک) پہلگام واقعے کے بعد پاک بھارت تعلقات کشیدہ ہیں، ایک طرف تو بھارت کے فالس فلیگ آپریشن کے خلاف ملک کے اندر سے بھی آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئی ہیں جس پر بھارتی فورسز نے کریک ڈائون بھی شروع کردیا تو دوسری طرف  تابڑ توڑ بیانات و دعووں کا سلسلہ بھی جاری ہے ، اب اس صورتحال میں سینیئر صحافی سلیم صافی نے بھی اپنا تجزیہ پیش کیا ہے ۔

روزنامہ جنگ میں چھپنے والے اپنے کالم میں سلیم صافی نے لکھا کہ ’’ بھارت  میں ابھی چند روز قبل وقف املاک کے حوالے سے ایک بل منظور کیا گیا جسے مسلمان اپنی املاک کو ہڑپ کرنے کا حربہ قرار دے رہے ہیں ۔

دریائے سندھ ہمارا ہے،مودی سن لے، اس میں ہمارا پانی بہے گا یا انکا خون، بلاول بھٹو

 اس بل کی اپوزیشن جماعت کانگریس آئی نے بھی مخالفت کی لیکن مودی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اس وقت مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے اسکے تناظر میں اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ ہندوستان کے اندر جذباتی مسلمان نوجوان بندوق اٹھانے پر مجبور ہوجائیں کیونکہ اس وقت ان کی رہنمائی کیلئےابوالکلام آزاد اور قائداعظم جیسے عدم تشدد پر یقین رکھنے والے لیڈر موجود نہیں ۔

 جہاں تک مقبوضہ کشمیر کا تعلق ہے تو مودی نے اسے کشمیریوں کے لئے ایک بڑی جیل میں تبدیل کر دیا ہے، حریت کانفرنس کی زیادہ تر قیادت جیلوں میں ہے یا ہاؤس اریسٹ ہے،  پاکستان کیساتھ ان کی ہر طرح کی کمیونیکیشن کو بند کر دیا گیا ہے،  کچھ عرصہ قبل مودی نے مقبوضہ کشمیر کی نیم خودمختار حیثیت کو ختم کرکے اسے جبری طور پر صوبہ بنا دیا لیکن اس کے ساتھ ایک پورا روڈ میپ بھی دیا گیا جس کی رو سے ہندوؤں کو لاکر وہاں بسایا جارہا ہے تاکہ مسلمان اقلیت میں تبدیل ہوجائیں ، مقبوضہ کشمیر میں اس نے سات لاکھ فوج تعینات کی ہے جو تقریبا ًپاکستان کی پوری فوج کے برابر ہے ۔

بھارت نے جیلوں میں قید پاکستانی ماہی گیر اور چرواہوں کے انکاؤنٹرکرنا شروع کردیئے : عطاء تارڑ

اس میں دو رائے نہیں کہ پاکستان اور انڈیا ازلی دشمن ہیں اور ہر ایک سے دوسرے کے خلاف جو کچھ ہوسکتا ہے کرے گا لیکن تماشہ یہ ہے کہ ہندوستان ابھی تک پاکستانی مداخلت کا کوئی واضح ثبوت پیش نہیں کر سکا لیکن پاکستان کے پاس دیگر متعدد شواہد کے ساتھ ساتھ کلبھوشن یادیو کی صورت میں ایک بین ثبوت موجود ہے ۔

 انڈین انٹیلی جنس نے پاکستان میں اتنا اثرورسوخ بڑھا لیا ہے کہ عسکریت پسندوں کی سپورٹ کے علاوہ اب انہوں نےپاکستان میں مختلف شخصیات کو بھی ٹارگٹ کرنا شروع کر دیا ہے اور گزشتہ چند سال کے اندر پاکستان میں متعدد انڈیا مخالف جہادی شخصیات کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا ، ہندوستان اس معاملے میں اتنا آگے بڑھا کہ اس نے کینیڈا جیسے ملک میں سکھ رہنما کو قتل کیا جس کی وجہ سے کینیڈا نے اپنے ملک سے اس کے سفیر کو بے دخل کیا لیکن سدھرنے کی بجائے نریندرمودی روز بروز پینترے بدل کر جارحیت کے نئے طریقے ایجاد کررہا ہے ۔

پاک ، بھارت کشیدگی : وزیر خارجہ کا سعودی و ایرانی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ

حالیہ پہلگام واقعے کو دیکھ لیجئے،  سوال یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے ، اس پر وہاں کے لاکھوں بہادر شہری کب تک خاموش رہیں گے ۔ جبر حد سے بڑھ جائے تو وہ غیرتمند اقوام کی موت کا خوف ختم کر دیتا ہے ۔ جس طرح کہ ہم فلسطین میں دیکھ رہے ہیں کہ انہوں نے جنگ شہادت کیلئے شروع کی ۔ روزانہ درجنوں لوگ شہید ہورہے ہیں لیکن مزاحمت سے باز نہیں آتے ۔

 مقبوضہ کشمیر کے مسلمان دیکھ رہے ہیں کہ ایک طرف تو انکو غلام بنا دیا گیا ہے اور دوسری طرف باہر سے لوگوں کو لاکر ان کی زمینوں پر بسایا جارہا ہے ۔  اس تناظر میں وہ زیادہ دیر خاموش نہیں رہیں گے لیکن پہلگام کے واقعے کے بارے میں تو پاکستان کا موقف ہے بلکہ خود انڈیا کے اندر بہت سارے لوگوں کا مؤقف ہے کہ یہ فالس فلیگ آپریشن تھا ۔

کیا پاکستان آنے والے سکھ یاتریوں کو دیگر ممالک کے ویزے نہیں ملیں گے؟

 اس کی ایک دلیل یہ دی جارہی ہے کہ وقف املاک بل سے پیدا ہونے والی صورت حال کو ڈفیوز کرنا مقصود تھا ۔ دوسرا حملہ اس وقت کیا گیا جب امریکہ کے نائب صدر ہندوستان کے دورے پر تھے ۔ جب یہ واقعہ ہوا تو پاکستان نے اس کی مذمت کی (واضح رہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے بڑے سے بڑے واقعات کی انڈیا مذمت نہیں کرتا) لیکن انڈین میڈیا اور بی جے پی نے فوراً بغیر کسی تحقیق کے یہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ اس کا ذمہ دار پاکستان ہے حالانکہ اب مقبوضہ کشمیر کے باسی اور انڈیا کے بعض ذی شعور لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ جب عسکریت پسند پاکستان سے آرہے تھے تو مقبوضہ کشمیر میں تعینات سات لاکھ فوجی کہاں تھے ؟۔

پشین میں خفیہ معلومات پر سی ٹی ڈی کا آپریشن ، فائرنگ کے تبادلے میں 9 مبینہ حملہ آور ہلاک

 حقیقت جو بھی ہے لیکن جنونی مودی کو ایک بہانہ ہاتھ آگیا ۔ وہ دورہ سعودی عرب مختصر کرکے انڈیا پہنچے اور سیکورٹی کونسل کا اجلاس منعقد کرکے سارا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا، پاکستانیوں کے ویزے کینسل کرنے کا اعلان کیا ۔ پاکستانی سفارتخانے کےاسٹاف میں کمی کردی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سندھ طاس معاہدے کو معطل کیا، جس کا ورلڈبینک ثالث ہے اور انڈیا اسے یکطرفہ طور پر ختم نہیں کر سکتا ۔

شاید یہی وجہ ہے کہ یہ ایشو پریس کانفرنس میں تو موجود تھا لیکن اعلامیہ میں نہیں،اگلے روز پاکستان نے بھی کابینہ کی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس بلایا اور اسی نوع کے اقدامات کے ذریعے انڈیا کو جواب دیا ، ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا کہ پاکستان کے پاس بھی شملہ معاہدے کو ختم کرنے کا آپشن موجود ہے ۔

اب سوال یہ ہے کہ انڈیا مزید کچھ کرے گا یا پھر انہی اقدامات پر اکتفا کرے گا؟ غالب رائے یہ ظاہر کی جارہی ہے کہ انہی پر اکتفا کرکے پاکستان کے اندر پراکسی وار کو تیز کرے گا، میزائل فائر کرنے کا امکان بھی کم ہے کیونکہ اسے علم ہے کہ پاکستان بھی میزائل حملے کی صورت میں جواب دے گا اور ہمارے میزائل بھی غوری ، ابدالی اور غزنوی وغیرہ ہیں جنکے نام سن کر مودی جیسے لوگ خوفزدہ ہوجاتے ہیں تو پھر کیا انڈیاثاسٹرائک کرئیگا ۔ میرے نزدیک اس کا جواب بھی نفی میں ہے کیونکہ ابھینندن کے منہ میں ابھی تک پاکستان ائیرفورس کی چائے کا ذائقہ موجود ہے اور اتنی جلدی انڈین پائلٹ دوبارہ پاکستان میں Fantastic چائے نہیں پینا چاہیں گے ۔

ہوسکتا ہے اب کی بار وہ پانی کے ذریعے ہمیں چھیڑنے کی کوشش کرے کیونکہ انہیں علم ہے کہ پاکستان میں پانی کی قلت ہے اور پہلے سے سندھ کے پانی کے حوالے سے صوبوں کا ایک تنازع موجود ہے ۔ 

یہ اچھی بات ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نےفوری طور پر یہ اعلان کیاکہ سی سی آئی میں اتفاق کے بغیر چھ نہروں پر کام نہیں ہوگا لیکن حکومت کو چاہئے کہ وہ بھرپور سفارتکاری کرے،  ڈار صاحب کچھ دنوں کیلئے وزارت خزانہ کو بھلا کر حقیقی معنوں میں وزیر خارجہ بن جائیں اور ورلڈبینک سے رجوع کے علاوہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر بھی ہندوستان کی آبی جارحیت کوبے نقاب کریں‘‘۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: پاکستان میں کہ پاکستان موجود ہے رہے ہیں کے اندر کرنے کا ہیں کہ کرے گا ہے اور

پڑھیں:

امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.

U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.

Command centers.

Drone storage.

Communication networks.

Coastal surveillance.

Maritime capabilities.

AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6

— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔

???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT

The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.

CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE

— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا