UrduPoint:
2026-07-24@04:27:58 GMT

متعدد ممالک میں امریکی گوشت کی برآمد پر پابندی کیوں؟

اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT

متعدد ممالک میں امریکی گوشت کی برآمد پر پابندی کیوں؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 26 اپریل 2025ء) امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ حال میں ہی اس بات پر شکوہ کناں نظر آئے کہ کئی ممالک امریکی گوشت برآمد کرنے سے گریزاں ہیں حالانکہ امریکہ ان ممالک سے اربوں ڈالر کا گوشت برآمد کرتا ہے۔

ٹرمپ نے آسٹریلیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے پچھلے سال آسٹریلیا سے تین ارب ڈالر کا گوشت خریدا مگر آسٹریلیا اب بھی امریکی گوشت لینے سے انکاری ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے برطانیہ اور یورپی یونین کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہاں امریکی گوشت پر پابندیاں ’’سائنسی بنیادوں کے بغیر‘‘ لگائی گئی ہیں۔

امریکی صدر نے ارجنٹائن پر بھی تنقید کی، جو تاحال زندہ امریکی مویشیوں کی درآمد پر پابندی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

(جاری ہے)

ان غیر منصفانہ تجارتی رویوں کو بنیاد بنا کر ٹرمپ انتظامیہ نے محصولات کا ایک نیا نظام بھی متعارف کروایا ہے۔

لیکن امریکی گوشت کا مسئلہ محض سیاسی یا معاشی نہیں بلکہ بیماریوں، سائنسی اختلافات اور خوراک کی حفاظت سے متعلق مختلف نظریات کا عکاس ہے ۔ میڈ کاؤ 'بیماری سے متعلق خدشات‘

آسٹریلیا اور ارجنٹائن نے 2003ء میں امریکی گوشت کی برآمد پر پابندی اس وقت لگائی، جب امریکہ میں پہلی بار ''بی ایس ای‘‘ یعنی میڈ کاؤ بیماری کی تشخیص ہوئی۔

یہ بیماری گائے کے اعصابی نظام کو متاثر کرتی ہے اور اس کی وجہ مخصوص بگڑے ہوئے پروٹین ہوتے ہیں، جنہیں پرائیون کہا جاتا ہے۔

اگر انسان ایسا آلودہ گوشت کھا لیں تو وہ بھی اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں، جسے انسانی سطح پر کریوٹسفیلڈ جیکب کی بیماری کے نام سے جانا جاتا ہے۔1986ء میں برطانیہ میں پہلی بار سامنے آنے کے بعد سے اب تک دنیا بھر میں اس بیماری کے سبب دو سو تینتیس افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

اگرچہ امریکی ادارے بی ایس ای پر قابو پانے میں کافی حد تک کامیاب ہو چکےتھے اور آسٹریلیا نے2019 میں امریکی گوشت کی برآمد سے پابندی اٹھا دی تھی مگر آسٹریلیا کے حیاتیاتی تحفظ کے قوانین اب بھی کافی سخت ہیں۔

آسٹریلیا کی مویشیوں کے امراض سے متعلق ماہر روبن آلڈرز کے مطابق، ''امریکہ میں کچھ لوگ اب بھی سمجھتے ہیں کہ آسٹریلیا نے ان کے گوشت پر پابندی لگا رکھی لیکن حقیقت میں کوئی سرکاری پابندی نہیں ہے۔

‘‘

البتہ آسٹریلیا کی حیاتیاتی تحفظ کی پالیسیاں بہت سخت ہیں۔ امریکی کمپنیوں کو گوشت بھیجنے کے لیے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ مویشی مکمل طور پر امریکہ میں پیدا ہوئے، پلے بڑھے اور ذبح ہوئے۔ آلڈرز کے مطابق یہ عمل مہنگا اور پیچیدہ ہے اور بہت کم کمپنیاں اسے اپنانے کو تیار ہیں۔

ارجنٹائن نے سن دو ہزار اٹھارہ میں امریکی گوشت پر بی ایس ای کی پابندی ختم کر دی تھی لیکن دونوں ممالک کے درمیان نیا ''سینیٹری سرٹیفکیٹ‘‘مکمل ہونے تک زندہ مویشیوں کی درآمد پر پابندی برقرار رکھی گئ ہے۔

یورپ اور برطانیہ کا ہارمونز اور کلورین پر اعتراض

یورپی یونین (ای یو) اور برطانیہ نے 1989ء سے امریکی گوشت پر پابندی لگا رکھی ہے مگر اس کی وجہ کوئی بیماری نہیں بلکہ امریکہ میں گائے کو دیے جانے والے ہارمونز ہیں۔ ان ہارمونز کا مقصد گوشت کی پیداوار بڑھانا ہے۔ امریکہ میں یہ عمل قانونی ہےلیکن یورپ میں اسے انسانی صحت کے لیے خطرناک سمجھا جاتا ہے۔

ای یو کی اپنی تحقیقات کے مطابق ان ہارمونز سے چند اقسام کے کینسر کا خدشہ بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر جب یہ گوشت بچے، بزرگ یا بیمار افراد کھائیں۔ برطانیہ سے تعلق رکھنے والے خوراک اور سائنسی پالیسی کے ماہر ایرک مِل اسٹون کہتے ہیں، ''یورپی حکام نے ان ہارمونز کے ممکنہ خطرات پر امریکہ سے زیادہ مفصل تحقیق کی ہے۔‘‘

یہی وجہ ہے کہ برطانیہ نے یورپی یونین سے اخراج یعنی بریگزٹ کے بعد بھی امریکی گوشت پر پابندی برقرار رکھی ہے۔

ایک سروے کے مطابق اسیّ فیصد برطانوی شہری ایسے گوشت کے حق میں نہیں، جس میں مصنوعی طریقے سے ہارمونز شامل کیے گئے ہوں۔

یورپی یونین اور برطانیہ امریکہ میں مرغیوں کے گوشت کی پراسیسنگ کے عمل پر بھی اعتراض رکھتے ہیں، خاص طور پر چکن کو کلورین سے دھونے کے عمل کے سبب۔ امریکی فوڈ سیفٹی حکام مرغی کے گوشت کو کلورین سے اس لیے دھوتے ہیں تاکہ نقصان دہ بیکٹیریا جیسے کہ کیمپائلوبیکٹر کو ختم کیا جا سکے، جو عموماً فوڈ پوائزننگ کا سبب بنتا ہے۔

اگرچہ یہ طریقہ بھی امریکی قوانین کے مطابق جائز ہے تاہم یورپی حکام سمجھتے ہیں کہ آخر میں مرغی کے گوشت کو کلورین سے دھونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پروڈکشن کے شروع میں صفائی اور جانوروں کی فلاح پر توجہ نہیں دی گئی۔

یورپ میں''فارم سے دسترخوان تک‘‘ کے اقدام کے تحت غذائی اشیاء کے لیے سخت معیارات مقرر ہیں، جن پر پورا اترنا ضروری ہے۔

پروفیسر مل اسٹون کے مطابق، ''کلورین ملا پانی جراثیم کو مارنے میں مؤثر ثابت نہیں ہوا۔ بیکٹیریا وہیں موجود رہتا ہے اور بیماریاں پھیلانے کی صلاحیت رکھتا ہے، بس نظر نہیں آتا۔‘‘ اس کے نیتجے میں امریکہ میں فوڈ پوائزننگ کے کیسز کی شرح یورپ سے کہیں زیادہ ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ برطانیہ میں رائے عامہ بھی امریکی گوشت کی درآمد کے خلاف ہے، جس کا ثبوت سن دو ہزار بیس میں کیا گیا ایک سروے ہے، جس کے کے مطابق اسی فیصد برطانوی عوام کلورین سے دھوئی گئی مرغی کی درآمد کے خلاف ہے۔

امریکی گوشت برآمدکنندگان کو کیا کرنے کی ضرورت ہے؟

امریکہ میں جانوروں کی پرورش کے موجودہ طریقے یا تو بین الاقوامی منڈیوں کے معیار سے مطابقت نہیں رکھتے یا پھر وہ غیر عملی ہیں۔

آسٹریلیا اور ارجنٹینا امریکی بیف کی درآمد کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ امریکی پیداوار ان ممالک کے مقرر کردہ ضوابط پر پوری اترے۔ آسٹریلیا میں درآمد کی اجازت کے لیے ضروری ہے کہ گوشت مکمل طور پر امریکہ میں ہی پیدا، پالا اور ذبح کیا جائے جبکہ ارجنٹائن کی جانب سے صفائی یعنی ہائجین کے نئے سرٹیفکیٹ کا مطالبہ رکھا گیا ہے۔

دوسری جانب یورپ اور برطانیہ میں امریکی گوشت کی برآمد کے لیے ضروری ہے کہ امریکی کمپنیاں افزائشی ہارمونز کے استعمال کو مکمل طور پر بند کریں اور مرغی کو کلورین سے دھونے سے بھی گریز کریں۔

اگر امریکی گوشت برآمدکنندگان واقعی عالمی منڈیوں خصوصاً یورپ، برطانیہ، آسٹریلیا اور ارجنٹائن میں قدم جمانا چاہتے ہیں، تو انہیں اپنے موجودہ فارمنگ سسٹمز میں انقلابی تبدیلیاں لانا ہوں گی اور عالمی اصولوں کو مکمل طور پر اپنانا ہو گا۔

میتھیو وارڈ ایجیئس (اریدہ خان)

ادارت: شکور رحیم

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے میں امریکی گوشت کی گوشت پر پابندی امریکی گوشت پر کو کلورین سے مد پر پابندی یورپی یونین اور برطانیہ امریکہ میں بھی امریکی ضروری ہے کی درآمد کے مطابق کے گوشت کے لیے

پڑھیں:

حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔ 

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران