پہلگام واقعہ؛ پاکستان کا جوابی وار! بھارتی براڈکاسٹرز کو وطن بھجوادیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
پہلگام واقعے کے بعد پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کے سبب پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں موجود بھارتی براڈکاسٹرز کو واپس انکے وطن بھیج دیا گیا۔
گزشتہ دنوں بھارت میں پہلگام واقعے کے بعد اسپورٹس اسٹریمنگ چینل فینکوڈ نے ہندوستان میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی لائیو اسٹریمنگ کو معطل کرتے ہوئے ٹورنامنٹ سے متعلق ویڈیوز اور میچز کی جھلکیاں بھی ہٹادیں تھی۔
بعدازاں پاکستان نے جوابی ردعمل دیتے ہوئے پی ایس ایل براڈکاسٹنگ کے دوران ملک میں موجود 23 بھارتی ملازمین واپس بھارت بھیج دیا۔
مزید پڑھیں: پہلگام واقعہ؛ بھارتی چینل نے پی ایس ایل کی لائیو اسٹریمنگ معطل کردی
براڈکاسٹ کمپنی کے 23 ملازمین کو واہگہ بارڈر پر کسٹم اور امیگریشن کے بعد بھارت بھیجا گیا جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے باعث بارڈر بند ہے۔
پی ایس ایل کی کوریج اور براڈکاسٹنگ کیلئے پاکستان میں موجود بھارتی ملازمین کو وی وی آئی پی سیکیورٹی دی گئی تھی۔
مزید پڑھیں: بھارت میں ایشیاکپ، ٹی20 ورلڈکپ اور چیمپئینز ٹرافی کا مستقبل کیا ہوگا؟
خیال رہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا 10واں ایڈیشن 11 اپریل سے شروع ہوا تھا اور 18 مئی تک جاری رہے گا۔
دوسری جانب پی ایس ایل کیلئے فینکوڈ کے علاوہ بھارتی اسپورٹس پارٹنرز میں سونی نیٹ ورک بھی سیٹلائٹ ٹی وی کا براڈکاسٹنگ پارٹنر ہے، جس کی جانب سے بھی یہ اقدام اٹھائے جانے کا امکان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ایس ایل
پڑھیں:
بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن، ماہرِ تعلیم سونم وانگچک(Sonam Wangchuck) نے تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے نوجوان مظاہرین کی حمایت میں جاری 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی۔
وانگچک، جنہیں عوام میں “سونم سر” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے مختلف شرائط پر طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں ممکنہ تشدد سے بچنے کے لیے بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
59 سالہ وانگچک کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین کی حمایت میں بھوک ہڑتال پر تھے، جو (NEET) کا پرچہ لیک ہونےکے بعد تعلیمی اصلاحات کے ساتھ ساتھ بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔
وانگچک نے ہڑتال کے دوران بتایا تھا کہ ان کا 11 کلوگرام وزن کم ہو چکا ہے، تاہم وہ “اب بھی زندہ ہیں”۔ گزشتہ ہفتے انہیں دہلی میں احتجاجی مقام سے پولیس نے زبردستی ہٹا کر اسپتال منتقل کر دیا تھا۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026
بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کے مطابق، حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی، وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ اس دوران بھارت کے وزرائے مملکت اور وزیر صحت نے بھی اسپتال میں ان سے ملاقات کی۔
وانگچک کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ ہمیں خوشی اور اطمینان ہے کہ سونم سر نے 26 دن بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا پُرامن احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے۔
مزیدپڑھیں:پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
واضح رہے کہ نئی دہلی میں بڑے پیمانے پر مظاہرے بدستور جاری ہیں۔ پیر کے روز پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس کے سخت کریک ڈاؤن کے نتیجے میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اس وقت بھارت کی نمایاں نوجوان تحریکوں میں شمار کی جا رہی ہے اور اسے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف عوامی اختلاف کی بڑی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
یہ تحریک مئی میں اعلیٰ تعلیمی امتحانات کے پرچے لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف ایک طنزیہ آن لائن مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، جس نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر وسیع مقبولیت حاصل کی۔
مظاہرین، جو خود کو “کاکروچ” کہتے ہیں، گزشتہ ایک ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ بعض ارکان نے بھوک ہڑتال بھی کی۔
ان کا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر بننے کے خواہشمند طلبہ کے اہم داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد امتحان منسوخ ہونے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوں۔