بھارتی جارحانہ اقدامات کیخلاف پوری قوم متحد
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
اسلام آباد (خبر نگار +نوائے وقت رپورٹ) بھارتی جارحیت اور اقدامات کے خلاف سینٹ میں مذمتی قرارداد منظور کر لی گئی۔ اپوزیشن سمیت سینٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں نے قرارداد کی حمایت کی۔ قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو پہلگام واقعے سے جوڑنے کے الزامات مسترد کرتے ہیں، بھارتی حکومت بدنیتی پر مبنی مہم چلا رہی ہے۔ قرارداد کے متن کے مطابق بھارت کو دوسرے ممالک بشمول پاکستان میں دہشتگردی پر قابل احتساب ٹھہرایا جائے، پاکستان کشمیر کی حمایت جاری رکھے گا۔ سینٹ کا اجلاس چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت شروع ہوا۔ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے قراردار ایوان میں پیش کی جسے متفقہ طور پر سینٹ سے منظور کر لیا گیا۔ سینیٹر اسحاق ڈار نے سینٹ اجلاس میں وقفہ سوالات جوابات معطل کرنے کی تحریک پیش کی۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ اگر کسی نے میلی آنکھ سے دیکھا تو ویسا ہی جواب ملے گا جیسا ماضی میں ملا، پہلے بھی جواب دیا تھا اور اب بھی بتا دیا ہے کہ پہلے سے تگڑا جواب ملے گا۔ پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز نے کہا کہ پہلگام واقعے کا الزام بغیر تردد پاکستان پر لگا دیا گیا، جس خطے میں 7لاکھ فوج ہے وہاں یہ واقعہ ہونا ان کی افواج کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ وزیر دفاع نے افغانستان کے حوالے سے انتہائی اشتعال انگیز بیان دیا ہے، بتایا جائے کہ حکومت کی سمت کیا ہے۔ سربراہ اے این پی ایمل ولی خان نے کہا کہ بھارت نے جو حرکت کی ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور ہم ہندوستان کے ڈرامے کی مذمت کرتے ہیں، مودی نے انگریزی میں تقریر اس لیے کی کہ وہ ان کو سنا رہا تھا جو انگریزی سمجھتے ہیں۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پہلگام حملے کا ملبہ بغیر ثبوت کے پاکستان پر ڈال دیا گیا۔ کیا مودی نے شفاف الیکشن کروائے ہیں؟ مودی کے تین سیاسی حریف جیلوں میں ہیں، بھارت میں اقلیتوں کو دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا ہے۔ مودی کی اپنی پہلی ٹرم میں بھی یہ خواہش تھی کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کریں۔ بھارت نے غیر رسمی طور پر پی آئی سی کو معطل کرنے کا کام پہلے سے شروع کر رکھا ہے لیکن بھارت یہ سوچ لے اگر وہ یہ مثال بنانا چاہتا ہے تو ان کے دریا بھی کہیں اور سے آتے ہیں۔ بھارت اگر دوسری جنگ عظیم کا وقت واپس لانا چاہتا ہے تو ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے، اگر وہ ہماری افواج اور قوم کا امتحان لینا چاہتے ہیں تو کرکے دیکھ لے۔ علاوہ ازیں دریں اثناء قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے پہلگام میں انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس چیئرمین فتح اللہ خان کی زیر صدارت منعقد ہوا، اجلاس کے آغاز پر چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر کی والدہ اور بھابھی کے انتقال پر فاتحہ خوانی اور دعا کی گئی۔کمیٹی نے بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور اشتعال انگیز قرار دیا۔کمیٹی نے اپنے اعلامیے میں زور دیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ہمیشہ خطے میں امن کے قیام کیلئے سنجیدہ کوششیں کرتا رہا ہے اور دہشت گردی کا خود شکار رہا ہے، تاہم اگر بھارت کی جانب سے کوئی بلاجواز اقدام کیا گیا تو پاکستان اس کا مناسب اور مؤثر جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
اسلام آباد+ لاہور+ ننکانہ صاحب (اپنے سٹاف رپورٹر سے +خصوصی نامہ نگار+ نامہ نگار)سیاسی رہنماؤں، شہریوں اور تمام مکاتب فکر کے افراد نے بھارتی جارحانہ عزائم کی مذمت کی ہے اور دفاع وطن کیلئے پوری طرح متحد ہو کر ایک آواز ہونے کے عزم کو دہرایا ہے اور کہا ہے کہ بھارت کسی غلط فہم میں کا شکار نہ ہو، پاکستان کا دفاع انتہائی مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ بھارت کے اس جارحانہ طرز عمل کا پوری قوم منہ توڑ جواب دے گی۔ بھارتی رویے کے جواب میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی تائید کرتے ہیں، قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے فیصلوں سے قوم کا مورال بلند ہوا ہے۔ وطن کے دفاع کے لیے پوری قوم ایک صف میں ہے، بھارت اپنی ناکام سکیورٹی کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے۔ پوری قوم بغیر کسی ابہام کے قومی سلامتی کمیٹی کے مؤقف کے ساتھ کھڑی ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام بھارتی اقدامات کیخلاف دفاع پاکستان احتجاجی مظاہروں و خطبات جمعہ کے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا ہے کہ مودی کا جنگی جنون خطے کے امن کے لئے خطرہ بن چکا ہے، پانی کے مسئلہ پر بھارت سرکار کے خلاف قوم متحد ہے، پانی کی ایک ایک بوند کا تحفظ ہماری قومی سلامتی کا مسئلہ ہے، پاکستان میں دہشت گردی کی شدید لہر کے بعد بھارت اب معاشی طور پر پاکستان کو قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو، قاری محمد یعقوب شیخ، حافظ خالد نیک، فیصل ندیم، چوہدری محمد سرور،و دیگر نے خطبات جمعہ اور بعد ازاں دفاع پاکستان مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام بھارتی غیر ذمہ دارانہ اقدامات کیخلاف ملک گیر دفاع پاکستان احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ اسلام آباد، ملتان، گجرات سمیت دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہروں کے شرکاء نے مودی کیخلاف نعرے بازی کی۔ چناب پل پر مرکزی مسلم لیگ کے کارکنان پہنچ گئے اور مودی کی بھارتی آبی جارحیت کیخلاف احتجاج ریکارڈ کروایا۔ مرکزی مسلم لیگ کے کارکنان کشتیوں میں سوار ہوئے اور پارٹی پرچم اٹھائے ہوئے پاکستان زندہ باد، بھارتی دہشت گردی نا منظور کے نعرے لگائے۔ خطبات جمعہ میں بھارتی غیر ذمہ دارانہ اقدامات کیخلاف مذمتی قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔ لاہور کی مساجد میں خطباء اور علماء نے قوم میں یکجہتی اتحاد اور اتفاق پر زور دیا اور کہا ہے کہ پوری قوم غزہ کے مجاہدین کی کامیابی کے لیئے دعا گو ہے اور وطن کی سلامتی پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دے گی بھارتی دھمکیوں کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ دشمن کے عزائم کو خاک میں ملانے کے لئے ہر وقت تیار ہے، وطن کی سلامتی اور وطن کے دفاع کے لیے ہم سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار جے یو آئی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا محمد امجد خان نے جامعہ رحمانیہ میں جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا جبکہ دیگر مساجد میں مولانا محب النبی، مولانا مفتی عبدالرحمن، حافظ نصیر احمد احرار، حافظ غضنفر عزیز، مولانا مفتی شمس الحق، مولانا حسن معاویہ، مولانا عبدالمجید توحیدی، مولاناحافظ اشرف گجر، مولانا اشرف علی، حافظ طارق شاہ، قاری شبیر احمد عثمانی، مولانا قاری امجد سعید، مولانا عبدالشکور، حافظ عبدالرحمان، قاضی عبد الودود، مولانا فاضل عثمانی، مولانا بشیر یوسف زئی، قاری طیب مدنی اور دیگر نے کہا کہ جے یو ائی ملک کے چپے چپے کی حفاظت کے لیے پوری طرح متحدہے اور قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ علاوہ ازیں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر گزشتہ روز اسرائیل اور بھارت کے خلاف یوم مذمت کے طور پر منایا گیا، ملک بھر میں اہل فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے حق میں خصوصی دعائیں کی گئیں، قوم نے اسرائیل اور بھارتی عزائم کی مذمت کی۔ مساجد میں خطبات جمعہ کے دوران علماء اور آئمہ کرام نے اسرائیلی افواج کی غزہ میں ڈیڑھ برس سے جاری سفاکیت کی پُرزور مذمت کی اور مسئلہ فلسطین کے حوالے سے قوم کو آگاہ کیا، اسی طرح مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے لیے بھی خصوصی دعائیں کی گئیں۔ مقررین نے بھارت کی مقبوضہ وادی میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مودی حکومت کے مظالم کو روکنے کے لیے آواز بلند کرے۔ اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور ، کوئٹہ اور ملک کے دیگر حصوں میں عوام نے اسرائیل اور بھارت کے خلاف نعرے بازی کی۔ دریں اثنا مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام پریس کلب ننکانہ صاحب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ضلعی عہدیداران، وکلاء، سیاسی و سماجی رہنمائوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر بھارت کے خلاف شدید نعرے درج تھے۔ شرکاء نے "بھارت مردہ باد"، "پاکستان زندہ باد" اور "پاک فوج زندہ باد" کے فلک شگاف نعرے لگائے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر مسلم ٹیچرز فورم پاکستان عطاء اللہ غلزئی، جنرل سیکرٹری پاکستان مرکزی مسلم لیگ ننکانہ صاحب ثاقب مجید، اور ضلع صدر میاں عابد سمیت دیگر مقررین نے کہا کہ بھارت ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژکرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ عالمی بینک کی نگرانی میں ہونے والے آبی معاہدوں کی مکمل پاسداری کی ہے ،مقررین کا کہنا تھا کہ بھارت فالس فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچا کر پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگا رہا ہے تاکہ وہ سندھ طاس معاہدے کو منسوخ کرنے کا جواز پیدا کر سکے۔علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین، چیف آرگنائزر ڈاکٹر محمد امجد اور سیکرٹری جنرل طارق حسن نے کہا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے سے نکلنے کی کوششں کررہا ہے لیکن یہ ممکن نہیں۔ کسی بھی بھارتی جارحیت کا پاک فوج جواب دینے کے لئے تیار ہے۔ ملکی دفاع کے لئے پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ ملکی صورتحال کی مضبوطی کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر ان سے رابطوں کو وسیع کرنا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب