پاکستان کا پہلگام واقعے کے حقائق سامنے لانے کیلئے شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
پاکستان نے پہلگام واقعے کے حقائق سامنے لانے کےلیے شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔ وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر محسن نقوی نے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی غیرجانب دار ادارہ پہلگام واقعے کی تحقیقات کرے، پاکستان بھرپور تعاون کرے گا، پاکستان اس ڈرامے کو بے نقاب کرنا چاہتا ہے، دنیا کو پتہ چلنا چاہیے کہ اس واقعے کے اصل حقائق کیا ہیں۔ ٹھوس شواہد ہیں کہ بھارت دہشت گردی میں ملوث ہے۔
اسلام آباد سے جاری اپنے بیان میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ موجودہ حالات اور ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کو بھارتی تحقیقات پر شدید تحفظات ہیں، چاہتے ہیں کوئی آزاد اور غیرجانبدار ادارہ پہلگام واقعہ کی تحقیقات کرے۔
انکا کہنا تھا کہ پاکستان کسی بھی غیرجانبدار تحقیقات میں مکمل تعاون کے لیے تیار ہے تاکہ حقائق سامنے آئیں اور انصاف ملے۔
وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر محسن نقوی نے کہا ہے کہ ہمارے پاس ٹھوس شواہد ہیں کہ بھارت دہشت گردی میں ملوث ہے، ہم پہلگام ڈرامے کو بےنقاب کرنا چاہتے ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں دہشت گردی واقعے سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے موقف میں بڑا واضح ہے، ہم پُرامن ملک ہیں، ہمارے پاس ٹھوس شواہد ہیں، دہشت گردی میں بھارت ملوث ہے۔
سینیٹر محسن نقوی نے مزید کہا کہ اگر ہمارے کسی حق کو دبانے کی کوشش کی گئی تو ایک ایک بندہ آخری دم تک لڑے گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ دہشت گردی دنیا میں کہیں بھی ہو ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، پاکستان پہلگام واقعہ کی غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان اس ڈرامے کو بے نقاب کرنا چاہتا ہے، کوئی بھی غیر جانبدار فریق تحقیقات کرے گا تو پاکستان تعاون کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، پاکستان کی معاشی ترقی بھارت کو ہضم نہیں ہو رہی، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی میں بھارت ملوث ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر داخلہ جانبدار تحقیقات محسن نقوی نے نے کہا کہ ملوث ہے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :