یحییٰ آفریدی چین اور ترکیہ کا دورہ مکمل کرکے وطن واپس پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
سپریم کورٹ کے جاری اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس نے چین میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کانفرنس میں شرکت کی، اجلاس میں ایس سی او کے رکن ممالک کے چیف جسٹس صاحبان اور اعلیٰ عدالتی حکام شریک تھے۔ اسلام ٹائمز۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی چین اور ترکیہ کا دورہ مکمل کرکے وطن واپس پہنچ گئے۔ سپریم کورٹ کے جاری اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس نے چین میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کانفرنس میں شرکت کی، اجلاس میں ایس سی او کے رکن ممالک کے چیف جسٹس صاحبان اور اعلیٰ عدالتی حکام شریک تھے۔ کانفرنس میں عدالتی معاملات سے متعلقہ اہم موضوعات زیرِ بحث آئے، چیف جسٹس نے اپنے افتتاحی خطاب میں اہم عدالتی موضوعات پر گفتگو کی، اس دوران چیف جسٹس نے ایران اور ترکیہ کے چیف جسٹسز کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں بھی کیں۔
اعلامیہ میں بتایا گیا کہ کانفرنس کا ایک مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا جس میں رکن ممالک نے کانفرنس میں شنگھائی تنظیم کی اساس کی پاسداری کے عزم کا اعادہ، سائبر سکیورٹی اور ڈیجیٹل نظم و نسق پر زور دیا گیا۔ اسی طرح مصنوعی ذہانت اور سمارٹ ٹیکنالوجیز کے عدالتی استعمال کی ضرورت کو تسلیم کیا گیا، ثالثی اور مصالحت جیسے متبادل تنازعاتی حل کے طریقوں اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی ڈھانچے کو مضبوط کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔
سپریم کورٹ کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ کانفرنس کے شرکا نے دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد کرنے کے عزم کا اعادہ اور اعلان کیا گیا کہ اگلی کانفرنس 2026ء میں اسلامی جمہوریہ ایران میں منعقد ہوگی۔ اعلامیہ میں مزید بتایا گیا کہ چین کے بعد چیف جسٹس استنبول روانہ ہوئے، چیف جسٹس نے ترکیہ کی آئینی عدالت کی تقریب میں شرکت کی، بعدازیں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی دورہ مکمل کرکے پاکستان پہنچ گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے رکن ممالک کانفرنس میں چیف جسٹس نے گیا کہ
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔
ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔
جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔
وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔
جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔