عدالتوں میں 2 شفٹوں اور مصنوعی ذہانت کے اسمتعمال پر غور کیا جارہا ہے، چیف جسٹس
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ ماڈل کریمنل کورٹس کے قیام کے لیے کام جاری ہے، عدالتی معاملات 2 شفٹوں میں چلانے اور مصنوعی ذہانت کے اسمتعمال پر غور کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس کا کوئٹہ برانچ رجسٹری کا دورہ، وکلاء برادری سے ملاقاتیں
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قومی جوڈیشل پالیسی اہمیت کی حامل ہے، عدالتی اصلاحات کے لیے ملک کے دور دراز علاقوں کا دورہ کیا، دوروں کا مقصد جوڈیشل نظام کی بہتری تھا۔
انہوں نے کہا کہ ماڈل کریمنل کورٹس کے قیام پر کام جاری ہے، اس مقصد کے لیے جوڈیشل افسران کو تربیت دی جارہی ہے، عدلیہ کے لیے پیشہ ورانہ مہارت اور سیاسی وابستگی نہ رکھنے والے نوجوان وکلا کو سامنے لایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس کی سربراہی میں اجلاس، بنیادی حقوق کے تحفظ پر کسی صورت سمجھوتہ نہ کرنے کا فیصلہ
ان کا کہنا تھا کہ میرا خواب تھا کہ سائلین اس اعتماد کے ساتھ عدالتوں میں آئیں کہ انہیں انصاف ملے گا، قانون کے بہترین ماہر روزانہ کی بنیاد پر کیسز کو سن رہے ہیں، کیسز کا حل مقررہ وقت میں ہونا چاہیے، بطور چیف جسٹس غیر جانبدار اور ایمان دار جوڈیشل افسروں کے ساتھ کھڑا رہوں گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پاکستان چیف جسٹس سپریم کورٹ عدالتی اصلاحتا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان چیف جسٹس سپریم کورٹ عدالتی اصلاحتا چیف جسٹس کے لیے
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز