ٹنڈوجام:یونین کونسل 56 اور 66 کے رہائشیوں کا احتجاجی مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوجام (نمائندہ جسارت) ٹنڈوجا م یونین کونسل 56 اور66 کے رہائیشوںکا اپنے مسائل کے حل کے لیے مظاہرہ برسات سے قبل سیوریج کا نظام تباہی کا شکار علاقے کے رہائشی پریشان میونسپل کا عملہ توجہ دینے کے تیار نہیں۔ تفصیلات کے مطابق یونین کونسل 56کے وارڈ نمبر 4 ٹالپور محلہ ٹنڈوجام میں ڈرینج اور نکاسی آب کا نظام مکمل طور پر ناکارہ ہو چکا ہیعلاقے میں نالیاں بند پڑی ہیں جبکہ گندگی کے ڈھیر معمول بن چکے ہیں جس کے باعث مکین شدید پریشانی کا شکار ہیں علاقہ رائشی راحیل تالپور منصف تالپور عدنان تالپور نے بتایا کہ ہم نے متعدد بار ٹنڈوجام میونسپل کمیٹی میں تحریری اور زبانی شکایات درج کروائی ہیں تاہم تاحال کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا مقامی افراد کے مطابق مون سون کا موسم شروع ہو چکا ہے اور اگر بروقت صفائی اور نکاسی آب کا بندوبست نہ کیا گیا تو بارش کے پانی سے گلیاں اور گھروں کا اندرونی حصہ زیر آب آ سکتا ہییہاں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ میونسپل کمیٹی کے ذمہ داران کی مجرمانہ غفلت اور عدم دلچسپی سے علاقہ بنیادی سہولیات سے محروم ہوتا جا رہا ہے دوسری جانب چیئرمین میونسپل کمیٹی کی جانب سے ٹالپور گوٹھ میں جاری ترقیاتی کام بھی انتہائی سست روی کا شکار ہیں جس کی وجہ سے لوگوں میں بے چینی بڑھتی جا رہی ہے علاقہ مکینوں نے اعلیٰ حکام، ڈپٹی کمشنر حیدرآباد اور متعلقہ وزیر بلدیات سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر نوٹس لیں اور ٹنڈوجام کے متاثرہ علاقوں میں نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے صفائی کا عمل تیز کرنے اور ترقیاتی منصوبوں کی رفتار میں بہتری لانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیںچیئرمین یونین کونسل 66 کے خلاف بھی رہائیشوں نے مظاہرہ کیا اور مطالبہ کیا کہ چیئرمین کی نا اہلی کے باعث پورا علاقہ گندگی کا ڈھیر بن کر رہ گیا ہے مظاہر ین کی قیادت محمودخان وقار احمد یونس خان چنگیز خان سلیم شاہد واجد علی شیر زمان نے کرتے ہوئے اور خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یوسی 66 کے چیئرمین نعیم الرحمان میمن کو ہم نے ے بھاری اکثریت سے ووٹ میںکامیاب کرایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یونین کونسل
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔