امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ میرے خیال میں یوکرین کریمیا کے اہم جزیرے سے دستبردار ہونے کے لیے تیار ہے جس پر روس نے 2014 میں قبضہ کیا تھا۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ دنوں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا تھا کہ کریمیا یوکرین کے لوگوں کا ہے اور ان کا ملک امریکا کی جانب سے کریمیا پر روسی قبضے کو تسلیم کرنے کے فیصلے کو قبول نہیں کرسکتا۔

یہ بھی پڑھیے: روس کا کورسک کا علاقہ یوکرین سے واپس لینے کا دعویٰ، یوکرین کی تردید

تاہم، بعد میں ویٹیکن میں پوپ فرانسس کی آخری رسومات کے موقع پر دونوں صدور کے درمیان ملاقات ہوئی، امریکی صدر نے کہا ہے کہ اس ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے۔

کریمیا سے دستبرداری کے بارے میں امریکی صدر کے حالیہ دعوے پر فی الحال ولادیمیر زیلنسکی کی جانب سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

امریکی صدر نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ روس یوکرین پر حملے بند کریں اور مذاکرات کی طرف آئے، اس سوال کے جواب پر کہ کیا انہیں ولادیمیر پوٹن پر اعتماد ہے، انہوں نے کہا کہ وہ اس کا جواب 2 ہفتے بعد دیں گے۔

یہ بھی پڑھیے: روس اور یوکرین کے درمیان جنگ میری نہیں بائیڈن کی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا لڑائی ختم کرنے پر زور

واضح رہے کہ گزشتہ روز روس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی افواج نے 8 ماہ کی لڑائی کے بعد کورسک کے روسی علاقے کو دوبارہ قبضے میں لے لیا ہے لیکن یوکرینی حکام نے اس دعوے کی فوری تردید کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جنگ بندی حملہ ڈونلڈ ٹرمپ روس کریمیا مذاکرات یوکرین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: حملہ ڈونلڈ ٹرمپ کریمیا مذاکرات یوکرین امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا

پڑھیں:

بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا

اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے