ایم کیو ایم کا سینیٹ انتخاب میں حصہ لینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے سینیٹ انتخاب میں حصّہ لینے کا فیصلہ کرلیا۔
ذرائع کے مطابق سینیٹ انتخاب میں حصّہ لینے کے لیے ڈاکٹر خالد مقبول نے نگہت مرزا کو پارٹی ٹکٹ جاری کر دیا۔
ذرائع نے بتایا کہ کچھ دیر بعد ایم کیو ایم پاکستان کی امیدوار نگہت مرزا اپنا پارٹی ٹکٹ آر او کو جمع کروائیں گی۔
سینیٹ الیکشن، PP کی امیدوار دستبردار کرانے کی درخواست، ایم کیو ایم نے وقت مانگ لیاکراچی پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد نے اتوار کو ایم.
پیپلز پارٹی نے گزشتہ روز ایم کیو ایم پاکستان سے سینیٹ انتخاب سے دستبردار ہونے کی درخواست کی تھی۔
سینیٹ انتخاب سے دستبردار ہونے کا آج آخری روز ہے جبکہ سینیٹ انتخاب 6 مئی کو سندھ اسمبلی کی عمارت میں ہوگا۔
یاد رہے کہ سینیٹ کی نشست پیپلز پارٹی کے تاج حیدر کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سینیٹ انتخاب ایم کیو ایم
پڑھیں:
مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
بی جے پی کی کٹھ پتلی مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ سامنے آنے لگا، جہاں بھارت میں نوجوانوں کی تحریک بےقابو ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔
بھارتی نوجوانوں نے مودی سرکارکو چیلنج کرتے ہوئے کاکروچ پارٹی کی جانب سے نئی دہلی میں احتجاج کی کال دے دی گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ پارٹی آہستہ آہستہ زور پکڑتی جائے گی کیونکہ بھارت کے اندر بےتحاشا تضادات اور گروہ بندی پائی جاتی ہے ۔
بھارت میں مودی سرکار نے ان گروہ بندیوں کو کم کرنے کے بجائے ان کو مزید مذہبی بنیادوں پر ہوا دے دی ہے، جہاں نوجوان جو نسلی، ذات اور مذہب کی بنیاد پر دھتکارے جا چکے ہیں، انہیں بھارت میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کے کاکروچ پارٹی بےحد مقبول ہوتی جا رہی ہے ۔
نیپال اور بنگلادیش کے بعد بھارت میں کاکروچ پارٹی کی جین زی انقلابی تحریک زورپکڑنے لگی ہے۔ عالمی جریدے رائٹرزکےمطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے کہا ہے کہ ہم اس تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گےاورمیں جلد بھارت آکراس تحریک کوآگے بڑھاؤں گا۔
ابھیجیت دِپکے کا کہنا ہے کہ خدشہ ہےکہ مجھےایئرپورٹ سے ہی گرفتارکرکےجیل بھیج دیا جائے گا لیکن مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔
رائٹرز کے مطابق بے روزگاری،کرپشن اورپیپرلیک نے کروڑوں طلبہ کی زندگیوں کومذاق بنا دیا، یہی بحران اس تحریک کے اصل محرکات ہیں۔
سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے مطابق مودی سرکاربھارت میں کسی بھی جین زی انقلاب سے بہت ڈری ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی بے روزگاری اورکرپشن پر نوجوانوں کا غصہ تباہ حال نظام کے خلاف ان کا حقیقی ردِعمل ہے۔ بھارت کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال، گرتی ساکھ اورمودی سرکارکی انتہا پسندانہ پالیسیاں عوامی غم و غصے کی بنیاد بن رہی ہیں۔