مہنگائی میں اضافے کی رفتار 60 سال کی کم ترین سطح اور زرمبادلہ کے ذخائر دگنے ہوگئے، وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
وزیر خزانہ سینیٹر اورنگزیب نے کہا ہے کہ مہنگائی میں اضافے کی رفتار میں تاریخی کمی جو اب 0.7 فیصد کی سطح پر ہے اور 60 برس میں سب سے کم ہے، زرمبادلہ کے ذخائر دوگنا ہو گئے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر خزانہ نے ہارورڈ یونیورسٹی میں منعقدہ ’’پاکستان کانفرنس 2025‘‘سے کلیدی خطاب میں کیا.
اپنے خطاب میں وزیر خزانہ نے ’’فاصلوں میں کمی اور مستقبل کی تعمیر: پاکستان میں شمولیتی ترقی اور حکمرانی کا راستہ‘‘ کے موضوع پر روشنی ڈالی اور پاکستانی معیشت میں بہتری کے سفر کو اجاگر کیا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان ایک اہم موڑ پر ہے، جہاں معیشت بحالی اور تبدیلی کی راہ پر گامزن ہو چکی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ موجودہ حکومت نے ایک مشکلات سے دوچار معیشت کو سنبھالا، بنیادی ڈھانچے کو مستحکم کیا، اعتماد بحال کیا اور ترقی کا عمل دوبارہ شروع کیا۔
وزیر خزانہ نے زور دیا کہ استحکام کوئی منزل نہیں بلکہ ترقی کا ذریعہ ہے، انہوں نے حکومتی حکمتِ عملی پر بات کرتے ہوئے مالیاتی نظم و ضبط، مہنگائی پر قابو پانے، توانائی، ٹیکس، حکمرانی اور سرکاری اداروں کی اصلاحات کا خاکہ پیش کیا۔
انہوں نے پاکستان میں ترقی کے بڑے مواقع، جیسے معدنی وسائل، آئی ٹی شعبے کی توسیع، گرین انرجی منصوبے اور نوجوان آبادی کے کاروباری جذبے پر بھی روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ انسانی ترقی کو مسلسل اور جامع ترقی کے لئے بنیاد بنانا ہوگا، وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے قرض کا جی ڈی پی سے تناسب 75 فیصد سے کم کر کے 67.
انہوں نے بتایا کہ خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی شفاف نجکاری سے جی ڈی پی میں سالانہ 2 فیصد بچت متوقع ہے۔
مالیاتی شعبے میں ڈیجیٹل بینکنگ، کیپیٹل مارکیٹس اور گرین فنانس کو فروغ دینے کے منصوبوں کے اعلان کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان مالیاتی نظام کو مزید مضبوط اور لچکدار بنانے کے لئے پرعزم ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بنیادی ڈھانچے اور زراعت میں ماحولیاتی مزاحمت شامل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا، اور آئی ایم ایف کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فیسلٹی (RSF) اور ورلڈ بینک کے کنٹری پارٹنرشپ پروگرام (CPF) کو اہم سنگ میل قرار دیا۔
وزیرِ خزانہ نے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں، شراکت داروں اور بہترین دماغوں کو پاکستان کی ترقی، مواقع اور ناقابل واپسی تبدیلی کے سفر میں شامل ہونے کی دعوت دی۔
انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں اضافے کی رفتار میں تاریخی کمی جو اب 0.7 فیصد کی سطح پر ہے اور 60 برس میں سب سے کم ہے، زرمبادلہ کے ذخائر دوگنا ہو گئے ہیں، روپے کی قیمت میں 3 فیصد اضافہ ہوا ہے، مارچ 2025 میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ایک ارب ڈالر سے زیادہ رہا، غیر ملکی سرمایہ کاری میں 44 فیصد اضافہ ہوا،آئی ٹی برآمدات میں 24 فیصد اضافہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ترسیلات زر 38 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، 24 سال بعد پہلی بار مالیاتی سرپلس حاصل کیا گیا، فچ (Fitch) نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ "B-” مستحکم آؤٹ لک کے ساتھ اپ گریڈ کی۔
انہوں نے کہا کہ "پاکستان کا مستقبل جراتمندانہ اور ضروری فیصلوں سے تشکیل پائے گا۔ اگر ہم اپنے عوام پر سرمایہ کاری کریں، معیشت کو جدید بنائیں اور اصلاحات کا عمل جاری رکھیں تو پاکستان ایک مضبوط، سرسبز اور زیادہ مقابلہ کرنے والا ملک بن کر ابھرے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان کانفرنس امریکا میں ہر سال منعقد ہوتی ہے، جس میں پالیسی ساز، ماہرین تعلیم، کاروباری رہنما اور طلبہ پاکستان کی معیشت، سیاست اور سماجی حالات پر بات کرتے ہیں۔
اسے ہارورڈ یونیورسٹی کے طلبہ اور تحقیقی مراکز کی مدد سے منعقد کیا جاتا ہے اور یہ امریکا میں پاکستانی طلبا کی جانب سے سب سے بڑی منعقدہ کانفرنس ہے جس کا مقصد مل کر مسائل کا حل تلاش کرنا، عالمی تعاون کو فروغ دینا اور پاکستانی عوام کی صلاحیتوں اور ہمت کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔
تقریب کے آخر میں وزیرِ خزانہ نے شرکا سے ملاقات کی اور پاکستان کی معیشت کے مستقبل کے حوالے سے ان کے سوالات کے جوابات دیئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اسکے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا اثر اب ہندوستان کی معیشت پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنائے رکھنے اور روپئے پر دباؤ کم کرنے کے لئے اپنے سونے کے ذخیرے کا کچھ حصہ فروخت کر دیا ہے۔ بلومبرگ اکنامکس کی ایک رپورٹ کے مطابق 22 مئی کو ختم ہوئے 2 ہفتے کے دوران آر بی آئی نے قریب 12 ارب (تقریباً 1.14 لاکھ کروڑ روپئے) قیمت کا سونا فروخت کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دوران مرکزی بینک نے قریب 7.5 ارب ڈالر (713.23 ارب روپئے) کے غیر ملکی کرنسی اثاثے حاصل کئے ہیں۔
بتا دیں کہ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل درآمد کنندہ ملک ہے۔ ایسے میں مغربی ایشیا میں بڑھتے تنازع کے سبب تیل کی قیمتوں میں تیزی آنے سے بھارت پر اضافی اقتصادی دباؤ پڑ رہا ہے۔ تیل درآمد پر اقتصادی خرچ ہونے سے زر مبادلہ کے ذخائر اور روپئے دونوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ "بلومبرگ اکنامکس" کے سینیئر ہندوستانی ماہر اقتصادیات ابھیشیک گپتا نے بتایا کہ دستیاب اعداد و شمار سے اشارہ ملتا ہے کہ آر بی آئی کے سونے کے ذخائر میں کمی آئی ہے جبکہ سونے پر درآمد ڈیوٹی بڑھنے کی وجہ سے اس کی قیمت میں اضافہ ہونا چاہیئے تھا۔ اسی بنیاد پر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے مرکزی بینک نے سونے کی فروخت کی ہو۔
اگر یہ اندازہ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ آر بی آئی نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مزید مضبوط اور آسانی سے استعمال کے قابل بنائے رکھنے کے لئے یہ قدم اٹھایا ہے۔ ایسا اس لئے بھی اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ ایران بحران اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق رکاوٹوں کے باعث تیل کی سپلائی اور عالمی تجارت پر دباؤ بڑھا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آر بی آئی مستقبل میں بھی موقع ملنے پر زر مبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی کوشش کر سکتا ہے، اگر ڈالر کمزور ہوتا ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے یا خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ آتی ہے تو مرکزی بینک مزید زر مبادلہ کے ذخائر حاصل کر سکتا ہے۔
مارچ 2025ء کے آخر تک آر بی آئی کے پاس 880.52 میٹرک ٹن سونا تھا۔ اس میں سے تقریباً 77 فیصد سونا ہندوستان میں ہی رکھا گیا تھا جبکہ 6 ماہ پہلے یہ اندازہ 66 فیصد تھا۔ آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اس کے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ سالوں میں آر بی آئی نے سونے کے ذخائر کا بڑا حصہ ہندوستان واپس منگایا ہے۔ اس کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی مانی جاتی ہے کہ روس-یوکرین جنگ کے بعد مغربی ممالک کے ذریعہ روس کے غیر ملکی اثاثے منجمد کئے جانے سے کئی ممالک کے مرکزی بینک غیر ممالک میں رکھے ذخیرے کے حوالے سے زیادہ الرٹ ہوگئے ہیں۔