UrduPoint:
2026-06-03@02:48:22 GMT

میرے بیان کا غلط مطلب لیا گیا

اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT

میرے بیان کا غلط مطلب لیا گیا

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2025ء) وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ میرے بیان کا غلط مطلب لیا گیا، ایک انٹرویو کے دوران سوال پوچھا گیا جس پر جنگ کے خدشات سے متعلق جواب دیا۔ تفصیلات کے مطابق 2،3 دنوں میں جنگ چھڑنے کے خدشے سے متعلق بیان پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بیان کا غلط مطلب لیا گیا، ایک انٹرویو کے دوران سوال کے جواب میں کہا تھا کہ خطے میں جنگ کے خدشات ہیں، پاکستان جواب دینے کیلئے تیار ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل اپنے بیان میں وزیر دفاع نے کہا تھا کہ اس خطے پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں، ہم جنگ کیلئے ذہنی طور پر تیار ہیں، اس بات کا خدشہ موجود ہے کہ دو تین روز میں جنگ چھڑ جائے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پوری قومی طاقت کا مطلب ہمارے پاس موجود تمام صلاحیتوں کا استعمال ہے۔

(جاری ہے)

وزیر دفاع نے کہا کہ انٹرویو میں مجھ سے جنگ سے متعلق سوال ہوا تھا، میں نے جواب میں کہا کہ تین چار دن بہت اہم ہیں، میں نے تین دن میں جنگ چھڑ جانے کی بات نہیں کی، جنگ چھڑ جانے کی بات نہیں کی لیکن خطرہ موجود ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ دونوں ممالک کی سرحدوں پر فوج کھڑی ہے، خطرہ موجود ہے، ایسی صورتحال پیدا ہو تو ہم اسے کے لیے بھی سو فیصد تیار ہیں، ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور جواب دیں گے، تینوں مسلح افواج ملک کے دفاع کے لیے تیار کھڑی ہیں۔ وزیر دفاع نے کہا کہ پہلگام واقعے پر تحقیقات کی پیشکش پر بھارت کا کوئی جواب نہیں ملا، ہم پہلگام واقعے پر بھارت کے جھوٹ کو بے نقاب کرنا چاہتے ہیں، چند دن میں جنگ کا خطرہ ضرور موجود ہے مگر کشیدگی کم بھی ہوسکتی ہے، دوست ممالک کی بھی کوششیں جاری ہیں ہوسکتا ہے بھارت کچھ عقل کرے۔         
.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے وزیر دفاع نے کہا کہ موجود ہے

پڑھیں:

اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔

اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔

انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔

سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار