UrduPoint:
2026-07-24@05:59:49 GMT

میرے بیان کا غلط مطلب لیا گیا

اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT

میرے بیان کا غلط مطلب لیا گیا

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2025ء) وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ میرے بیان کا غلط مطلب لیا گیا، ایک انٹرویو کے دوران سوال پوچھا گیا جس پر جنگ کے خدشات سے متعلق جواب دیا۔ تفصیلات کے مطابق 2،3 دنوں میں جنگ چھڑنے کے خدشے سے متعلق بیان پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بیان کا غلط مطلب لیا گیا، ایک انٹرویو کے دوران سوال کے جواب میں کہا تھا کہ خطے میں جنگ کے خدشات ہیں، پاکستان جواب دینے کیلئے تیار ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل اپنے بیان میں وزیر دفاع نے کہا تھا کہ اس خطے پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں، ہم جنگ کیلئے ذہنی طور پر تیار ہیں، اس بات کا خدشہ موجود ہے کہ دو تین روز میں جنگ چھڑ جائے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پوری قومی طاقت کا مطلب ہمارے پاس موجود تمام صلاحیتوں کا استعمال ہے۔

(جاری ہے)

وزیر دفاع نے کہا کہ انٹرویو میں مجھ سے جنگ سے متعلق سوال ہوا تھا، میں نے جواب میں کہا کہ تین چار دن بہت اہم ہیں، میں نے تین دن میں جنگ چھڑ جانے کی بات نہیں کی، جنگ چھڑ جانے کی بات نہیں کی لیکن خطرہ موجود ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ دونوں ممالک کی سرحدوں پر فوج کھڑی ہے، خطرہ موجود ہے، ایسی صورتحال پیدا ہو تو ہم اسے کے لیے بھی سو فیصد تیار ہیں، ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور جواب دیں گے، تینوں مسلح افواج ملک کے دفاع کے لیے تیار کھڑی ہیں۔ وزیر دفاع نے کہا کہ پہلگام واقعے پر تحقیقات کی پیشکش پر بھارت کا کوئی جواب نہیں ملا، ہم پہلگام واقعے پر بھارت کے جھوٹ کو بے نقاب کرنا چاہتے ہیں، چند دن میں جنگ کا خطرہ ضرور موجود ہے مگر کشیدگی کم بھی ہوسکتی ہے، دوست ممالک کی بھی کوششیں جاری ہیں ہوسکتا ہے بھارت کچھ عقل کرے۔         
.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے وزیر دفاع نے کہا کہ موجود ہے

پڑھیں:

پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ

اسلام آباد:

پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔

بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ