جاسوسی کی کوشش ناکام، پاک فوج نے ایل او سی پر بھارتی کواڈ کاپٹر مار گرایا
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
راولپنڈی:پاک فوج نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی کواڈ کاپٹر کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کو ناکام بناتے ہوئے مار گرایا۔
تفصیلات کے مطابق سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھمبر کے علاقے مناور سیکٹر میں دشمن نے کواڈ کاپٹر کے ذریعے جاسوسی کرنے کی کوشش کی تھی، پاک فوج نے بروقت کارروائی کر کے دشمن کی اس مذموم کوشش کو ناکام بنادیا۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ پاک فوج کی مستعدی۔پیشہ ورانہ مہارت اور دفاعی تیاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ذرائع کے مطابق پاک فوج دشمن کی کسی بھی جارحیت کا فوری اور مؤثر جواب دینے کے لیے ہر دم تیار ہے، پوری قوم افواجِ پاکستان کے ساتھ ملکر دشمن کو ہر محاذ پر منہ توڑ جواب دیں گی۔
واضح رہے کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارت کی جانب سے اشتعال انگیزی اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری تھا، اب بھارت فضائی حدود کی خلاف ورزی پر بھی اتر آیا ہے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاک فوج
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔