سپریم کورٹ: ایف بی آر کے وکیل کی استدعا پر سپر ٹیکس کیس کی سماعت 5 مئی تک ملتوی
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے سپر ٹیکس سے متعلق زیرِ سماعت کیس کی کارروائی ایف بی آر کے وکیل رضا ربانی کی درخواست پر پیر تک ملتوی کر دی ہے۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت ایف بی آر کے وکیل رضا ربانی نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ اس وقت کراچی میں موجود ہیں، لہٰذا سماعت جمعرات تک ملتوی کی جائے۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: سپر ٹیکس کا ایک روپیہ بھی بے گھر افراد کی بحالی پر خرچ نہیں ہوا، وکیل مخدوم علی خان کا دعویٰ
جس پر جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ جمعرات، یکم مئی کو عام تعطیل ہے، اس لیے سماعت اب پیر (5 مئی) تک ملتوی کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ کیس میں سینیئر وکیل مخدوم علی خان، جو مختلف کمپنیوں کی نمائندگی کر رہے ہیں، انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن فور بی کے خلاف دلائل مکمل کر چکے ہیں، جبکہ دیگر وکلاء نے بھی ان کے دلائل کی تائید کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئینی بینچ ایف بی آر جسٹس امین الدین رضا ربانی سپر ٹیکس سپریم کورٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایف بی ا ر جسٹس امین الدین سپر ٹیکس سپریم کورٹ سپریم کورٹ سپر ٹیکس تک ملتوی ایف بی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔