سپریم کورٹ میں جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 5 رکنی آئینی بینچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے تبادلے اور سینیارٹی سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی۔

سماعت کے آغاز میں جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ آیا وفاقی حکومت کے جواب میں کچھ تحریری مواد جمع کرایا گیا؟ اس پر درخواست گزار ججز کے وکیل منیر اے ملک نے بتایا کہ ابھی تحریری جواب جمع نہیں کرایا گیا، تاہم جلد جمع کرا دیا جائے گا۔

منیر اے ملک نے اپنے دلائل میں مؤقف اختیار کیا کہ آئین کا آرٹیکل 200، جو ججز کے تبادلے سے متعلق ہے، اسے تنہا نہیں پڑھا جا سکتا بلکہ اسے آرٹیکل 2 اے اور 175 اے کے ساتھ ملا کر ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ آرٹیکل 2 اے عدلیہ کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ ان کا بنیادی مؤقف یہی ہے کہ آرٹیکل 200 کا اصل مقصد عارضی تبادلے ہیں۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ ججز ٹرانسفر کیس میں رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ کی طرف سے جواب جمع

منیر اے ملک نے آئینی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 میں ججز کے تبادلے کی کوئی شق شامل نہیں تھی۔ بعد ازاں 1956 کے آئین میں اس حوالے سے شق متعارف کرائی گئی، جس کے تحت صدر، دونوں ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کی مشاورت سے ججز کا تبادلہ کر سکتا تھا، جو مخصوص یا عارضی مدت کے لیے ہوتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ 1962 کے آئین اور پھر 1973 کے آئین میں بھی ججز کے تبادلے کے لیے مخصوص دفعات رکھی گئیں۔ خاص طور پر آئین کے آرٹیکل 202 کے تحت صدر کو تبادلے کی مدت اور مراعات کا تعین کرنے کا اختیار حاصل تھا۔ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد آرٹیکل 200(2) کے تحت یہ واضح کیا گیا کہ ججز کا تبادلہ صرف عارضی نوعیت کا ہوگا، اور بعد کی ترمیم یعنی 26ویں ترمیم میں اس شق کو برقرار رکھا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ججز کے تبادلے صرف عوامی مفاد میں ہی کیے جا سکتے ہیں، اور ثابت کرنا ہوگا کہ حالیہ تبادلے بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔ منیر اے ملک نے کہا کہ تبادلوں کو سزا یا دباؤ کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: صدر مملکت کے پاس ججز کے تبادلوں کا اختیار ہے، جسٹس محمد علی مظہر کے ریمارکس

جسٹس شاہد بلال حسن نے سوال اٹھایا کہ اگر تبادلہ عارضی نوعیت کا ہو تو اس کی مدت کیا ہوگی؟ وکیل نے جواب دیا کہ آئینی تاریخ کے مطابق اس کی مدت 2 سال ہو سکتی ہے۔ تاہم جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ موجودہ آئین میں ایسی کوئی مدت واضح نہیں، جس کا مطلب یہ بھی لیا جا سکتا ہے کہ تبادلہ غیر معینہ مدت کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔

وکیل نے کہا کہ اگر تبادلہ جج کی مرضی کے بغیر ہو تو مدت لازماً 2 سال ہونی چاہیے، جس پر بینچ نے رائے دی کہ اگر جج خود رضامند ہو تو تبادلہ غیر معینہ مدت کے لیے بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ سماعت کے اختتام پر بینچ نے کیس کی کارروائی کل صبح 9:30 بجے تک ملتوی کر دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئینی بینچ ججز تبادلے اور سینیارٹی کیس سپریم کورٹ منیر اے ملک.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ججز تبادلے اور سینیارٹی کیس سپریم کورٹ منیر اے ملک جسٹس محمد علی مظہر منیر اے ملک نے ججز کے تبادلے آرٹیکل 2 جا سکتا سکتا ہے کے لیے

پڑھیں:

صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال

کراچی:

صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔

صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔

ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔

متعلقہ مضامین

  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن