UrduPoint:
2026-06-03@03:49:41 GMT

فارم 47 والے بھارت کو کوئی جواب نہیں دے سکتے

اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT

فارم 47 والے بھارت کو کوئی جواب نہیں دے سکتے

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2025ء) عمران خان کا کہنا ہے کہ فارم 47 والے بھارت کو کوئی جواب نہیں دے سکتے ، نوازشریف اور آصف زرداری ایک بیان تک نہیں دیں گے کیونکہ ان کے ذاتی مفادات جڑے ہوئے ہیں، نوازشریف مودی کے خلاف بیان دے کر اپنے کاروبار کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ تفصیلات کے مطابق بانی تحریک انصاف اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے منگل کے روز اڈیالہ جیل میں وکلاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "پہلگام واقعے میں انسانی جانوں کا ضیاع انتہائی پریشان کن اور المناک ہے۔

میں متاثرین اور ان کے اہل خانہ سے اپنی گہری تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ جب فالس فلیگ پلوامہ آپریشن کا واقعہ ہوا تو ہم نے بھارت کو ہر طرح کے تعاون کی پیشکش کی لیکن بھارت کوئی ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔

(جاری ہے)

جیسا کہ میں نے 2019 میں پیشین گوئی کی تھی، پہلگام کے واقعے کے بعد دوبارہ وہی ہو رہا ہے۔ مودی سرکار خود شناسائی اور تحقیقات کے بجائے الزام ایک بار پھر پاکستان پر ڈال رہی ہے۔

1.

5 بلین آبادی کا ملک ہونے کے ناطے، ہندوستان کو پہلے سے ہی "نیوکلیئر فلیش پوائنٹ" کے نام سے مشہور خطہ کے ساتھ گڑبڑ کرنے کی بجائے ذمہ داری سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ امن ہماری ترجیح ہے لیکن اسے بزدلی نہ سمجھا جائے۔ پاکستان کے پاس کسی بھی بھارتی مہم جوئی کا بھرپور جواب دینے کی تمام صلاحیتیں موجود ہیں، جیسا کہ میری حکومت نے، پوری قوم کی حمایت سے 2019 میں کیا تھا۔

میں نے ہمیشہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی اہمیت پر زور دیا ہے جس کی ضمانت اقوام متحدہ کی قراردادوں میں دی گئی ہے۔ میں اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا رہا ہوں کہ آر ایس ایس کے نظریے کی قیادت میں ہندوستان نہ صرف خطے کے لیے بلکہ اس سے آگے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔ آرٹیکل 370 کی غیر قانونی منسوخی کے بعد کشمیر میں بھارتی جبر میں شدت نے کشمیری عوام کی آزادی کی خواہش کو مزید ہوا دی ہے۔

افسوس کی بات ہے کہ جعلی فارم 47 کے نتائج کے ذریعے مسلط کی گئی ایک ناجائز حکومت نے قوم کو تقسیم کر دیا ہے۔ اور پھر بھی ستم ظریفی یہ ہے کہ نریندر مودی کی جارحیت نے پاکستانی عوام کو بھارتی دشمنی کے خلاف ایک آواز میں متحد کر دیا ہے۔ جب کہ ہم اس جعلی حکومت کو مسترد کرتے ہیں، ہم ایک پاکستانی قوم کے طور پر مضبوطی سے کھڑے ہیں اور مودی کی جنگ کو ہوا دینے اور علاقائی امن کو خطرے میں ڈالنے والے اس کے خطرناک عزائم کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ بیرونی دشمن کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے سب سے پہلے قوم کو متحد ہونا ہوگا۔ اب وقت آگیا ہے کہ ان تمام کارروائیوں کو روکا جائے جو قوم کو مزید پولرائز کر رہے ہیں۔ اس نازک وقت میں سیاسی شکار پر ریاست کی ضرورت سے زیادہ توجہ اندرونی تقسیم کو گہرا کر رہی ہے اور بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنے کی قوم کی اجتماعی صلاحیت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

نواز شریف اور آصف زرداری جیسی خود ساختہ شخصیات سے کسی مضبوط موقف کی توقع رکھنا بے ہودہ ہے۔ وہ بھارت کے خلاف کبھی نہیں بولیں گے کیونکہ ان کی غیر قانونی دولت اور کاروباری مفادات بیرون ملک ہیں۔ وہ بیرونی سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان مالی مفادات کے تحفظ کے لیے وہ پاکستان پر غیر ملکی جارحیت اور بے بنیاد الزامات کے سامنے خاموش رہتے ہیں۔ ان کا خوف بہت سادہ ہے کہ اگر وہ سچ بولنے کی ہمت کریں تو بھارتی لابی ان کے آف شور اثاثے منجمد کر سکتی ہیں۔ "

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بھارت کو کے خلاف

پڑھیں:

سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔

دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔

دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان