Daily Ausaf:
2026-07-24@05:52:02 GMT

پہلگام کاخونیں ناٹک !!

اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT

حقیقت احوال جو بھی ہو، کبھی پنڈت جواہر لعل نہرو کا بھارت، سیکولرازم کو اپنے سَر کی کَلغی قرار دینے میں فخر محسوس کرتا تھا۔ دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا تمغہ سینے پر سجائے پھرتا تھا۔ نریندر مُودی نامی تہی مغز اور رعونت شعار شخص نے، گلی محلے کے اوباش کی طرح بھارت کے چہرے کا یہ نقاب بھی تارتار کر دیا ۔ بچپن سے ہی راشٹریہ سیوک سنگھ (RSS) کی آغوشِ دہشت میں پرورش پانے کے بعدگجرات کے وزیراعلی کے طورپر، نفرت وکدُورت میں گُندھی اُس کی سرشت نے بال وپر نکالے۔ 2002ء کی مُسلم کُش مہم کی باقاعدہ منصوبہ بندی کرتے ہوئے اُس نے انتہا پسندوں کے جتھے تیار کئے۔ تین ہزار کے لگ بھگ مسلمان قتل کردئیے گئے۔ ہزاروں کے گھر اور کاروبار تباہ ہوگئے۔ خونِ مسلم کی اس اَرزانی نے، مُودی کو ’’گجرات کے قصاب‘‘ کا خطاب دیا۔ آج اُس کی بلائیں لینے والے امریکہ نے اُسے ویزا دینے سے انکارکردیا تھا۔مُودی نے اِ س قتل وغارت گری کو اپنی عروسِ سیاست کے عارض ورُخسار کا غازہ بناتے ہوئے اپنی سیاسی حکمتِ عملی کا بنیادی نکتہ بنالیا۔ اُس نے جان لیا کہ آگے بڑھنے، کانگرس کو پیچھے دھکیلنے، مذہب کے نام پر سستی جذباتیت اُبھارنے اور نفرت کی دراڑیں ڈالنے سے ہی وہ وزارت عظمیٰ کے منصب تک پہنچ سکتا ہے۔ سو اُس نے یہی راہ اختیار کی اور کامران ٹھہرا۔ آج مُودی کا بھارت اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کی قتل گاہ بن چکا ہے۔ بائیس کروڑ مسلم آبادی خوف وہراس کے عالم میں شب وروز گذار رہی ہے جس کی جوان نسل کے لئے، کسی بھی شعبۂِ زندگی میں ہنرآزمانے کے تمام راستے بند ہیں۔ نریندر مُودی بڑی محنت اور لگن کے ساتھ نفرتوں کی فصل پروان چڑھا رہا ہے۔ بھارتی معاشرہ، تحمل، برداشت، ہمدردی، مذہبی رواداری اور پُرامن بقائے باہمی جیسی اُجلی انسانی اقدار کا مَرگھٹ بن چکا ہے۔ مُودی کی سیاسی حکمتِ عملی کا دوسرا اہم جزو پاکستان دُشمنی ہے۔ وقفے وقفے سے پاکستان پر وار کرنا، بے سروپا الزام عائد کرنا، جھوٹ پر مبنی داستانیں گھڑ کر دنیا کو گمراہ کرنا، پاکستان کے اندر دہشت گردی کرنے والے ملک دشمن عناصر کو ہر نوع کے وسائل فراہم کرنا، خوارج اور انتشاری قوتوں کی پرورش ونمو، اسکی بڑی ترجیحات بن چکی ہیں۔ یہی اُس کی سیاسی کامیابی کی کلید ہے جس کے ذریعے وہ گیارہ برس سے ’پردھان منتری‘ کی کرسی پر بیٹھا ہے۔
مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال، غزہ سے کم سنگین نہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں میں 90 ہزار سے زائد کشمیری شہید ہوچکے ہیں۔ پچیس ہزار خواتین بیوگی کی سیاہ چادریں اوڑھے بیٹھی ہیں۔ دس ہزار سے زائد دُخترانِ کشمیر کی عصمتیں لٹ چکی ہیں۔ ہزاروں جیلوں میں گَل سڑ رہے ہیں۔ اُن کی عبادت گاہیں محفوظ ہیں نہ کاروبار، گھر نہ جائیدادیں۔ 2019ء میں بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 پر بھی کلہاڑا چلا دیا گیا جو مقبوضہ جموں وکشمیر کو خصوصی تحفظات دیتا تھا۔ اب وہاں تیزی سے اکثریت کو اقلیت میں بدلا جا رہا ہے۔ زور زبردستی سے بھارت میں ضم کردیا جانے والا خطۂِ جنت نظیر، آہستہ آہستہ تحلیل ہوکر نفرتوں کی چتا کا رزق بن رہا ہے۔
ماضی کی متعدد دہشت گردانہ وارداتوں کی طرح، پہلگام بھی ، ہر پہلو سے بھارتی خفیہ کاروں کی ٹیکسال میں ڈھلا منصوبہ دکھائی دیتا ہے۔ سات لاکھ سے زائد بھارتی فوج، بستی بستی، گلی گلی مورچے سنبھالے بیٹھی ہے۔ قدم قدم پر چوکیاں ہیں۔ ہر آٹھ کشمیریوں پر ایک بندوق بردار کھڑا ہے۔ پہلگام کے معروف سیاحتی مقام پر ایسے واقعات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں۔ بھارتی فوج اور اُس کی ایجنسیاں کہاں تھیں؟ غیرملکی یا مُلکی سیاحوں کو بھیڑ بکریوں کے لاوارث گَلّے کی طرح کیوں چھوڑ دیاگیا؟ بھارتی کہانی کے مطابق صرف چار دہشت گردوں کو اتنا وقت کیسے ملا کہ وہ سرِبازار، ایک ایک سیاح کا انٹرویو لیتے، شناخت کرتے اور بصد اطمینان اُن کے سینوں میں گولیاں داغتے رہیں؟ ابھی کسی زخمی کو ہسپتال بھی نہیں پہنچایا گیا تھا کہ دس منٹ کے اندر اندر پاکستان کے خلاف ایف۔آئی۔آر کٹ گئی اور اُسے کٹہرے میں کھڑا کردیاگیا۔ کشمیر کو تقسیم کرنے والی 740 کلو میٹر طویل لائن آف کنٹرو ل پر بلند قامت فولادی باڑ لگی ہے۔ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر، تیز روشنی میں چار سُو نگاہ رکھنے والی چوکیاں ہیں۔ اس باڑ سے پہلگام کافاصلہ دو سو کلومیٹر سے زائد ہے۔ ’’پاکستانی دہشت گرد‘‘ کون سی طلسماتی اڑن طشتری میں بیٹھ کر آئے اور دو درجن سے زائد سیاحوں کو ہلاک کرکے سہولت کے ساتھ واپس چلے گئے؟ اگر آس پاس کوئی جنگل بھی ہے تو کس قدر گھنا ہے کہ دہشت گرد وہاں خیمے گاڑے بیٹھے رہے، تربیت لی، منصوبہ تیار کیا، ریہرسل کی اور پھر ہتھیاروں سے مسلح ہوکر سیاحت گاہ میں آئے اور بہ سہولت واردات کرکے ٹہلتے ہوئے جنگل میں واپس چلے گئے۔ بار بار تقاضا کرنے کے باوجود بھارت ایک بھی ثبوت سامنے نہیں لاسکا جو اِس خوں ریزی کا تعلق پاکستان سے جوڑتا ہو۔ پھر بھی بھارتی توپوں کا رُخ مسلسل پاکستان کی طرف ہے۔ زہر اُگلا جارہا ہے۔ جنگی جنون کو ہوا دی جا رہی ہے۔ بلوغت سے عاری طفلانہ اعلانات اور اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ 65 سالہ پرانے سندھ طاس منصوبے کو معطل کرکے آبی جارحیت کی دھمکی دی جا رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت سندھ، چناب اور جہلم کے بہائو کو روکنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔ ایسا کرنے کے لئے اُسے آٹھ دس سال کا وقت چاہیے۔ کیا پاکستان اتنا عرصہ ’دَشتِ کربلا‘ بننے کے انتظار میں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھا رہے گا؟ اور اگر بھارت تمام عالمی قوانین، باہمی معاہدوں اور مسلّمہ اخلاقیات کو پائوں تلے روند کر ہمارے حصے کے دریائوں کا گلا گھونٹنے کی روایت ڈالے گا تو براہما پُترا، سندھ اور ستلج کا کیا بنے گا جن کے دہانے چین میں ہیں؟
بھارت ایک بڑی عسکری قوت سہی، اُس کا دفاعی بجٹ ہم سے دَس گُنا زیادہ سہی، اُس کااسلحہ خانہ ہلاکت آفریں ہتھیاروں سے لبریز سہی، لیکن بھارت کو اتنی خبر تو ہونی چاہیے کہ بندوقوں، مشین گنوں، توپوں، ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں والا زمانہ لَد گیا۔ پاکستان اور بھارت دونوں کی ٹوکریوں میں ناقابلِ تصوّر تباہ کاری پھیلانے والے تابکاری انڈے دھرے ہیں۔
عالم یہ ہے کہ پہلگام دہشت گردی کے مبیّنہ چار ملزموں میں سے ابھی تک کوئی ایک بھی گرفت میں نہیں آیا۔ تحقیق وتفتیش کے لئے اب یہ معاملہ نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (NIA) کے سپرد کردیا گیا ہے۔ آج ایک ہفتہ ہوگیا۔ اپنے اور دنیا بھر کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے ٹامک ٹوئیاں جاری ہیں۔ بات بن نہیں پا رہی اور جھنجھلاہٹ بڑھ رہی ہے۔ اچھا ہوتا کہ ’’فالس فلیگ آپریشن‘‘ کے سکرپٹ رائٹرز، پاکستان کے ملوث ہونے کے ’’شواہد‘‘ کو بھی جعلی تمثیل میں سمو دیتے۔ جب بھی امریکہ سے کوئی بڑا، بھارت کے دورے پہ آتا ہے، بھارت صرف پاکستان پر الزام دھرنے کے لئے آگ اور بارود کا ایسا تماشا ضرور رچاتا ہے۔ 2000ء میں صدر کلنٹن کے دورے کو چالیس کے لگ بھگ سکھوں کے لہو کا نذرانہ پیش کیا گیا اور اب گرم جوش میزبانی کے لئے امریکی نائب صدر کے حضور دو درجن سے زائد سیاحوں کے سرطشت میں سجا کر نذر کردیے گئے۔ میزبانی کا حق تو ادا ہوگیا لیکن دنیا کے بازارِ سیاست میں، بھارتی بیانیے کا خریدار کوئی نہیں۔ یہ صورتِ حال مُودی کا فشارِ خون بڑھا رہی ہے۔ وہ اثرات ونتائج سے بے نیاز ہوکر کوئی بھی احمقانہ قدم اٹھاسکتا ہے۔یہ الگ بات کہ اُسے جواب میں وہی کچھ ملے گا جو کسی بھی احمقانہ قدم کے ردّعمل میں ملا کرتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کے لئے ا رہی ہے

پڑھیں:

سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت

ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔

سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔

اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔

سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔

بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔

سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا