قابل آرمی چیف کے ہوتے ہوئے ہمیں کوئی ڈر نہیں، فیصل واوڈا
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر و سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وطن کے دفاع کے لیے ہم سب متحد ہیں، قابل آرمی چیف نے ٹریڈ، ایئرسپیس بند کر کے بھارت کو معاشی طور پر نقصان پہنچایا۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ قابل آرمی چیف قسمت سے ملتا ہے، قابل آرمی چیف کے ہوتے ہوئے ہمیں کوئی ڈر نہیں۔ ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ وطن کے دفاع کے لیے ہم سب متحد ہیں، قابل آرمی چیف نے ٹریڈ، ایئرسپیس بند کر کے بھارت کو معاشی طور پر نقصان پہنچایا۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ بھارتی فوج بوکھلاہٹ کا شکار ہے، ملک کو آج اتحاد کی ضرورت ہے، میں نے تجویز دی تھی تمام لیڈران کو اکٹھا کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں کیسز کا معاملہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے ویڈیو لنک کے ذریعے بھی اجلاس میں بلایا جاسکتا ہے۔ فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ لیڈرشپ کا کام ہے ملک میں یکجہتی پیدا کرے، فیصل واوڈا نے تجویز دی کہ قوم سے خطاب وزیراعظم کے بجائے آرمی چیف کر دیں زیادہ مزہ آئے گا، وزیراعظم بھی خطاب کر دیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فیصل واوڈا نے نے کہا کہ آرمی چیف
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :