بلڈنگ کنٹرول نے سپریم کورٹ کے احکامات کی دھجیاں اڑادیں
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
کراچی ایڈمن سوسائٹی کے پلاٹ نمبر B-172، بلاک 5 پر 4منزلہ غیرقانونی تعمیرات
ایک ماہ میں دوسری، تیسری ، چوتھی منزل پر تمام تعمیرات منہدم کرنے کا عدالتی حکم نظرانداز
سندھ بلڈنگ کے افسران کی سرپرستی میں ناجائز تعمیرات کا عمل بدستور جاری ہے۔ اس ضمن میں سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود مسلسل شہر میں ناجائز تعمیرات کا مشاہدہ کیا جارہا ہے۔ کراچی ایڈمن سوسائٹی میں واقع پلاٹ نمبر B-172، بلاک 5 پر بلڈر محسن وحید کی جانب سے 4منزلہ غیرقانونی عمارت تعمیر کی جارہی ہے۔ ، تعمیرات کے دوران سندھ ہائیکورٹ نے اگست 2023 میں تعمیرات کو روکنے اور منہدم کرنے کا حکم جاری کیا تھا، بعدازاں بلڈر نے سپریم کورٹ سے حکم امتناع حاصل کرکے تعمیرات مکمل اور 8پورشن آباد کردیے تھے ۔ رواں ماہ سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کے دوران اسٹے آرڈر ختم کرتے ہوئے ایک ماہ میں دوسری، تیسری اور چوتھی منزل پر تمام تعمیرات منہدم کرنے جبکہ گراؤنڈ اور پہلی منزل کی تعمیرات پر رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔ اس حوالے سے درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق کا کہنا تھا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے تاحال تعمیرات کو منہدم نہیں کیا ہے ، عثمان فاروق کے مطابق بلڈنگ کنٹرول تعمیرات منہدم نہ کرنے کی صورت میں توہین عدالت کی مرتکب ہوگی۔ جبکہ اہل محلہ کا کہنا تھا کہ غیرقانونی تعمیرات کی وجہ سے سوسائٹی ایک گوٹھ کی صورت اختیار کرتی جارہی ہے ، ناقص تعمیرات نہ صرف کسی انسانی المیہ کو جنم دے سکتی ہے بلکہ پانی اور گیس کی قلت کا سبب بھی بن رہی ہیں۔ جبکہ عثمان فاروق ایڈوکیٹ کا کہنا تھا بلڈنگ کنٹرول نے سپریم کورٹ کے عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ کیا تو توہین عدالت کی درخواست دائر کریں گے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: بلڈنگ کنٹرول سپریم کورٹ
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔