سندھ طاس رسمی معاہدہ نہیں، کوئی فریق اسے یک طرفہ ختم یا معطل نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ بار
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ رسمی معاہدہ نہیں۔ کوئی فریق معاہدے کو یک طرفہ ختم یا معطل نہیں کرسکتا۔
سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے اعلامیہ کے مطابق صدر سپریم کورٹ بار نے کہا سندھ طاس معاہدہ پاکستان کی بقا اور خوشحالی کیلیے اہم ہے۔ یہ معاہدہ ورلڈ بینک کی ثالثی سے طے پایا تھا، کوئی فریق معاہدے کو یک طرفہ ختم یا معطل نہیں کرسکتا۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ معاہدہ معطل کر کے بھارت نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی، افسوس ورلڈ بینک نے بھارتی غیر قانونی اقدام کا نوٹس نہیں لیا۔
اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ورلڈ بینک نوٹس لے کر بھارت کو اس کی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کرائے۔
صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ وفاقی حکومت کا سندھ طاس معاہدے کے معاملہ کو عالمی فورمز پر اٹھانے کیلئے موثر اقدام نہ کرنا افسوسناک ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ بار نے کہا
پڑھیں:
سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 60 لاکھ ڈالر کم ہو کر 22 ارب 66 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ گزشتہ ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 60 لاکھ ڈالر کم ہو کر 22 ارب 66 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔ مرکزی بینک کے مطابق کمرشل بینکوں کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی، جس کے بعد ان کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ ڈالر رہ گئے۔