امیگریشن کے نفاذ کے ایک حیرت انگیز اقدام میں، امریکی حکومت نے واضح انفرادی جائزوں کے بغیر ہزاروں بین الاقوامی طلبا کی قانونی حیثیت کو منسوخ یا ختم کرنے کا اعتراف کیا ہے-

کالج کیمپس میں خوف، الجھن اور قانونی چارہ جوئی کے بعد یہ فیصلہ اب قانونی جانچ کے مرحلے سے گزر رہا ہے، پچھلے مہینے کے دوران، امریکا بھر میں غیر ملکی طلبا حیران رہ گئے کہ اچانک ان کی قانونی حیثیت کو امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ یعنی آئس کے زیر انتظام وفاقی ڈیٹابیس میں باطل کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا میں غیر ملکی طلبا کے ویزے اچانک منسوخ، طلبا خوف و ہراس کا شکار

تھوڑی سی وضاحت یا تنبیہ کے ساتھ، کچھ طلبا چھپ گئے، بعض نے اسکول چھوڑ دیا، یا مکمل طور پر امریکا ہی چھوڑ دیا، تاہم بڑھتی ہوئی قانونی چارہ جوئی اور عوامی احتجاج کے بعد وفاقی حکام نے پینترا بدل لیا۔

گزشتہ ہفتے کے آخر میں، حکومت نے متاثرہ طالب علموں کے لیے قانونی حیثیت بحال کرتے ہوئے نئی پالیسی رہنمائی جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مستقبل میں کیسے اور کیوں ان طلبا کی برطرفی ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا: ذہنی دباؤ کے باعث اکثر کالج طلبا تعلیم چھوڑنے پر مجبور

حالیہ رہنمائی نے پچھلی پالیسی سے زیادہ جارحانہ انداز اختیار کیا ہے، نئی جاری کردہ دستاویزات کے مطابق، محکمہ خارجہ کی جانب سے ویزا کی منسوخی، جو پہلے برطرفی کے لیے کافی نہیں سمجھی جاتی تھی، اب امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ کے ذریعہ طالب علم کی قانونی موجودگی کو منسوخ کرنے کی بنیاد کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

متاثرہ طالب علموں میں سے ایک اکشر پٹیل کی نمائندگی کرنے والے ایک امیگریشن اٹارنی بریڈ بنیاس کے مطابق امریکی حکومت کے اس حالیہ فیصلے نے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کو ویزا منسوخ کرنے اور پھر ان طلبا کو، چاہے انہوں نے کچھ غلط نہ بھی کیا ہو، ملک بدر کرنے کے لیے ’کورا کاغذ‘ فراہم کردیا ہے۔

مزید پڑھیں:فلسطینیوں کی حمایت جرم قرار، امریکا نے غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کر دیے

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ غیر ملکی طلبا قانونی حیثیت محکمہ خارجہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ غیر ملکی طلبا قانونی حیثیت قانونی حیثیت غیر ملکی کے لیے

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان